پیپلز پارٹی اور سینیٹ سیکرٹریٹ میں ایک بار پھر ٹھن گئی
اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ اجلاس طلب کرنے کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور سینیٹ سیکرٹریٹ میں ایک بار پھر ٹھن گئی ہے اور چیئرمین صادق سنجرانی نے پیپلز پارٹی کی دوسری ریکوزیشن پر بھی اجلاس بلانے سے انکار کردیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اجلاس کیلیے مطلوبہ 25 اراکین پورے کرنے کی کامیاب نہیں ہوئی اور دیگر جماعتوں کے جن اراکین کے ریکوزیشن پر دستخط کیے گیے تھے وہ انہوں نے واپس لے لیے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی ریکوزیشن پر سینیٹ اجلاس طلب کرنے کے معاملے پر پی پی پی اور سینیٹ سیکرٹریٹ پھر آمنے سامنے آگئے ہیں کیونکہ ریکوزیشن پر مطلوبہ اراکین کے دستخط نہیں ہیں اور اسی وجہ سیب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی اجلاس بلانے سے گریزاں ہیں پیپلزپارٹی نے سینیٹ اجلاس کی طلبی میں چیئرمین سینیٹ کو رکاوٹ قرار دے دیا ہے اور کہا کہ وہ جان بوجھ کر اجلاس نہیں بلانا چاہتے جبکہ دوسری طرف سینیٹ سیکرٹریٹ کا موقف ہے کہدوبارہ جمع کرائی گئی ریکوزیشن میں شامل دیگر جماعتوں کیارکان پیچھے ہٹ گئے ہیں جن میں سعدیہ عباسی ، عابدہ عظیم ، ہدایت اللہ ، محمدقاسم اور عمرفاروق شامل ہیں انہوں نے ریکوزیشن سے اپنا نا م واپس لے لیا ہے 21 ارکان کی حامل پیپلزپارٹی کے پاس تنہا ریکوزیشن جمع کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد پوری نہیں سینیٹ اجلاس کیلیے کم از کم 25 اراکین کے ریکوزیشن پر دستخط ضروری ہیں پہلی جو ریکوزیشن جمع کروائی گئی تھی
اس میں سینیٹر شہادت اعوان کی ریکوزیشن میں بعض ارکان کے دستخط مصدقہ نہ ہونے کابھی انکشاف ہوا تھا سینیٹ سیکرٹریٹ نے پیپلز پارٹی کو ارکان کی جانب سے نام واپس لیے جانے سے آگاہ کردیا ہیاورچسینیٹ سیکرٹریٹ نے پی پی پی کو ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ بھی دے دیا ہے سابق ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کہا کہنا ہے کہ سینیٹ سیکرٹریٹ نے تاج حیدر کو نام واپس لینے کے فیصلہ سے زبانی آگاہ کیا ہے،سینیٹ سیکرٹریٹ ہمیں ریکوزیشن پر فیصلے سے تحریری طور پر آگاہ کرے۔
Comments are closed.