حکومت کو گرین بلٹ پر صرف مساجد ہی نظر آتی ہیں،ہوٹلز اور سرکاری ادارے کیوں نظر نہیں آتے،مولانا فضل الرحمن
اسلام آباد(آن لائن ) جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وفاقی دارلحکومت میں گرین بلٹ پر ہوٹلز اور سرکاری ادارے تعمیر کئے گئے ہیں حکومت کو صرف مسجد ہی نظر آئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام مسلح گروہوں کے ساتھ مذاکرات نہ کریں اور نہ ہی ان کے مقابلے میں اسلحہ اٹھائیں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ایک جانب کہتی ہے کہ ہم اپریشن کی اجازت نہیں دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب دستخط کردیتی ہے۔بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جن گھروں میں راکٹ گرتے ہیں جہاں روزانہ بچے اور خواتین شہید ہوتی ہیں او اور سینکٹروں کی تعداد میں لوگ اپاہچ ہوتے ہیں تووہاں پر کہتے ہیں کہ پولیو والوں کے ساتھ تعاؤن کریں ہم نے تو ہمیشہ تعاؤن کیا ہے اور کرتے رہیں گے ۔
انہوں نے کہاکہ اس کیلئے حالات بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہاکہ اگر ایک دو چار بچوں کو پولیو سے بچانا ہے اور وہاں پر بمباری کے نتیجے میں سو پچاس لوگ شہید ہوتے ہیں تو وہاں پر لوگ پولیو کا کیا کرے انہوں نے کہاکہ وہاں پر یہ کہنا کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائے انہوں نے کہاکہ حکومت ایک جانب اپریشن بھی کرنا چاہتی ہے اور اپریشن نہیں بھی کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ پبلک کو مسلح لوگوں کے مقابلے میں لانا کہاں کی عقلمندی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ قبائل سے کہتا ہوں کہ اس وقت کسی کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا وقت نہیں ہے ریاست ان کے ساتھ بات کرے اور اگر معاملات بات چیت سے حل ہوتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور ہر مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں تو اگر ریاست اس راستے پر چلتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اگر ہم خالی ہاتھ ہونگے اور وہ مسلح ہونگے تو مذاکرات کیسے ہونگے انہوں نے کہاکہ باجوڑ گذشتہ کئی عرصے سے دہشت گردی سے متاثر ہے وہاں پر ہمارے ایک جلسے میں درجنوں افراد دہشت گردی سے شہید ہوئے تھے انہوں نے کہاکہ مدارس اور مساجد پر سارا ملبہ ڈالتا امتیازی رویہ ہے اور یہ رویہ قابل قبول نہیں ہے
انہوں نے کہاکہ فاٹا کے علاقے میں سینکڑوں مساجد بمباری سے شہید ہوئی ہیں وہاں پر بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں قانون بھی امتیازی بنائے جارے ہیں جو کہ قابل قبول نہیں ہے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ایک دن کہتی ہے کہ اپریشن کے خلاف ہیں بلکہ دوسرے دن دستخط کرتی ہے کہ اپریشن کرو ان کا ہمیں سمجھ نہیں آرہا ہے انہوں نے کہاکہ یہاں پر بڑے بڑے کلب بنے ہوئے اور بڑے بڑے تعلیمی ادارے قبضے کی زمینوں پر بنے ہوئے ہیں حکومت کو ایک مسجد ہی نظر آگئی ہے انہوں نے کہاکہ ایک مسجد کا گرانا حکومت کا ایک ٹیسٹ کیس ہے اورمزید مساجد گرانے کی بھی تیار ی ہے جسے ہم کسی صورت بھی کامیاب ہیں ہونے دیں گے
Comments are closed.