پاکستان ایک گھر ہے جسے مل کر سنوارنا ہے، وزیراعظم

بونیر (آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایک گھر ہے جسے مل کر سنوارنا ہے ۔ ہماری مسلح افواج اس وقت ایک طرف فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں دوسری طرف سیلاب زدگان کی امداد میں مصروف ہیں ۔ فیلڈ مارشل نے فوج کو سیلاب متا ثرین کی بھر پور معاونت کا حکم دیا ہے ۔ آئندہ چند روز میں چاروں صوبائی وزرائے اعلی اور سیکرٹیڑیز کی میٹنگ بلاوں گا جس میں ندی نالوں اور خطرناک جگہوں پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف حکمت عملی بنائی جائے گی ۔ وزیر اعظم نے خطرناک جگہوں پر ہوٹلز اور رہا ئشی عمارات کی تعمیر کے خلاف تحریک چلانے کا بھی اعلان کیا ۔

کے پی کے کے ضلع بونیر کے دورے کے موقع پر سیلاب متاثرین میں امدادی چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا نا گہانی آفات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار افسوس کرنے آیا ہوں ۔ اللہ تعالی مر حومین کے درجات کو بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے ۔ انہوں نے کہا شمالی علاقہ جات میں گذشتہ چند دنوں کے واقعات پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ بادل پھٹنے سے آبی ریلے نے طغیانی کی شکل اختیار کی جس سے جانی ومالی نقصان ہوا ۔ تین سو پچاس افراد جاں بحق ، سینکڑوں زخمی اور لاپتہ ہیں ۔ انہوں نے کہا پنجاب ، سندھ بلوچستان اور آزادکشمیر میں سات سو سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے کہا دو ہاز ار بائیس کے تبا ہ کن سیلاب میں بھی دلخراش واقعات پیش آئے ۔ اس دو ران بھی جہاں تک ہو سکا متاثرین کے پاس پہنچا ۔ ابھی بھی تمام متاثرہ صوبوں کی حکومتوں کے ساتھ ملکر متاثرین کی مدد اور بحالی کا کام کریں گے۔ امداد اور بحالی کے کاموں میں کسی قسم کی کوئی تفریق روا نہیں رکھیں گے ۔

موجودہ حا لات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے یہ قیامت صغری ہے ۔ انہوں نے غیر قانونی قبضوں، ٹمبر مافیا، آبی گزرگاہوں میں کان کنی اور کرشنگ کی سرگرمیوں کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ یہ عوامل انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر نقصان کے ذمہ دار ہیں۔ شہباز شریف نے عوام اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تجاوزات کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور انسانی جانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ایک مضبوط ریاست کے طور پر عمل کرنا ہوگا جہاں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ندی نالوں اور دریاوں کے ساتھ خطرناک جگہوں پر ہوٹلز اور رہا ئشی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔ اس میں کسی اثر ورسوخ رکھنے والے کے دباو میں ہر گز نہ آیا جائے ۔ انہوں خطر ناک جگہوں پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوے کہا کہ ایسی تحریک کا ساتھ دینا ہر ایک کی مذہبی ، سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے اس معاملے پر آئندہ چند روز میں چاروں صوبائی وزرائے اعلی اور سیکرٹیڑیز کی میٹنگ بلانے کا بھی اعلان کرتے ہوے کہا کہ اجلاس میں ملک کے تمام صوبوں میں خطرناک جگہوں پر تعمیرات کا سلسلہ روکنے کے حوالے سے حکمت عملی اپنائی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ بونیر میں 47 میں سے 37 فیڈرز بحال کر دیے گئے ہیں اور سڑکوں و پلوں کی بحالی کے کام جاری ہیں۔انہوں نے بارشوں کی مزید پیش گوئی کے پیش نظر تیاری کی ہدایت کی اور کہا کہ تجاوزات روکنے کے لیے سخت پالیسی اپنائی جائے۔شہباز شریف نے عوامی اور مخیر حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرین کی مدد کریں اور کہا کہ پاکستان ایک گھر ہے جسے سب کو مل کر سنوارنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ملک کے طور پر انسانیت کی خدمت میں سب کا کردار ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا افواج پاکستان دن رات کام میں مصروف ہیں ایک طرف انھیں فتنہ الخوارج کا سامنا ہے دوسری طرف سیلاب متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں ۔ فیلڈ مارشل نے جوانوں کو سیلاب متاثرین کی بھر پور امداد کا حکم دے رکھا ہے ۔ انہوں نے علی امین گنڈا پور کی سیلاب متاثرین کے لئے امدادی کارروائیوں پر سرہایا ۔

Comments are closed.