لاہور (آن لائن) پنجاب کے وسطی ضلع گجرات میں شدید بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث ضلع بھر کے تعلیمی ادارے آج بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نورالعین قریشی کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔گزشتہ رات ہونے والی موسلا دھار بارش کے نتیجے میں متعدد دیہات زیر آب آگئے جبکہ اندرون شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا ہے۔ فلڈ کنٹرول حکام کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران گجرات میں 577 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد برساتی نالے بپھر گئے اور کئی دیہات مکمل طور پر زیر آب آ گئے۔شدید بارش اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے گجرات شہر کے متعدد علاقے اب بھی پانی میں گھرے ہوئے ہیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ مونجی (چاول) کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو اکتوبر میں کٹائی کے لیے تیار ہونا تھیں، اس کے علاوہ سبزیوں اور پھلوں کی فصلیں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔مزید برآں، گجرات کی ڈسٹرکٹ جیل اور احاطہ سیشن کورٹ میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر قیدیوں کو لاہور اور گوجرانوالہ کی جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل سیالکوٹ جیل سے بھی ایک ہزار سات قیدیوں کو گوجرانوالہ، حافظ آباد اور نارووال کی جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔انتظامیہ کے مطابق مدینہ سیداں کے قریب حفاظتی بند باندھ کر پانی کو برساتی نالے کی طرف موڑا جا رہا ہے جبکہ نکاسی آب کے لیے گوجرانوالہ سے ہنگامی بنیادوں پر بھاری مشینری اور گاڑیاں گجرات روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ شہریوں کو مشکلات سے نجات دلائی جا سکے۔
Comments are closed.