نائجر میں فوجی بغاوت: فرانس نے اپنا سفیر اور فوج واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا

پیرس (آن لائن) فرانس نے نائجر میں فوجی بغاوت کے بعد اپنے سفیر اور فوجی دستوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ٹی وی انٹرویو میں فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ فرانس نے نائجر میں صدر محمد بازوم کی حکومت کے خلاف جولائی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد وہاں سے اپنے سفارتکاروں کو واپس بلانے اور فوجی دستوں کی دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔میکرون نے کہا کہ نائجر میں موجود ہمارا سفیر اور متعدد سفارتی عملہ جلد ہی نائجر چھوڑ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ نائجر کے ساتھ فوجی تعاون بھی اب ختم ہوچکا ہے، نائجر میں ہمارے 1500 فوجی دستے ہیں جو چند ماہ یا ہفتوں میں واپس آئیں گے اور سال کے آخر تک یہ عمل مکمل کرلیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کو نائجر میں فوجی بغاوت کے بعد دباوٴ کا سامنا ہے، حالیہ ہفتوں میں ہزاروں افراد نے دارالحکومت نیامے میں فرانسیسی فوج کے بیس کیمپ کے باہر شدید احتجاج کیا تھا۔

علاوہ ازیں نائجر کے فوجی سربراہ نے نائجر حکومت کو تسلیم نہ کرنے پر میکرون سے ملک سے افواج نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔نائجر کے فوجی سربراہ نے میکرون کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم نائجر کی خودمختاری کے ایک نئے دور پر خوش ہیں، یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔

Comments are closed.