بھارت نے بابا گرونانک کے جنم دن پر سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روک دیا

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کو وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے آگاہ کیا ہے کہ بابا گرونانک کے جنم دن کی مناسبت سے بھارت نے اپنی سکھ برادری کو پاکستان آنے سے روک دیا ہے، جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لیے ہر قسم کی سہولیات مہیا کی ہیں اور دنیا کے دیگر ممالک سے یاتری پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

اجلاس کمیٹی کی قائمقام چیئرپرسن شگفتہ جمانی کی صدارت میں جمعہ کو منعقد ہوا۔ شگفتہ جمانی نے کہا کہ کمیٹی کے چیئرمین ملک عامر ڈوگر عمرہ کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک ہیں، جبکہ گزشتہ اجلاس سیلابی صورتحال کے باعث نہ ہو سکا تھا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور ساجد محمود چوہان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ حج میں ادائیگی کے باوجود نہ جا سکنے والے عازمین کو ترجیح دی جا رہی ہے اور اب تک ایسے 21 ہزار افراد رجسٹر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس قانون کے مطابق نہیں ہو سکتا۔ مزید بتایا گیا کہ "روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ میں لاہور کو شامل کرنے کی کوشش جاری ہے، تاہم اس سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ پاکستانی ائیرپورٹس پر سعودی عملہ تعینات کرنا پڑتا ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری نے کہا کہ سکھ یاتری ون ڈے پاس کے ذریعے بھی کرتاپورہ آ سکتے ہیں اور شام کو واپس بھارت جا سکتے ہیں۔

وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ بھارت نے اپنے ہی عقیدت مندوں کو پاکستان کے مقدس مقامات پر آنے سے روک دیا ہے جو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔اجلاس میں رکن کمیٹی نیلسن عظیم نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی ڈویلپمنٹ اسکیمز کے لیے صرف 4 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز و کالجز میں داخلوں پر حافظ قرآن کو 20 نمبر اضافی ملتے ہیں، لیکن اقلیتوں کو یہ سہولت نہیں ملتی۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وزارت کی جانب سے اقلیتی رکن اسمبلی کو صرف 76 ہزار روپے تقسیم کرنے کے لیے دیے گئے جو ناکافی ہیں۔وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے وضاحت کی کہ 18ویں ترمیم کے بعد اقلیتوں کے فنڈز کا اختیار صوبوں کو حاصل ہے اور تمام صوبوں نے اس حوالے سے وافر فنڈز مختص کیے ہیں۔

Comments are closed.