پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلاب کے اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے‘شہبازشریف

نیویارک(آن لائن)وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف اہداف اور وعدوں کو پورا کرنے کی طرف مسلسل پیش رفت کر رہا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلاب کے اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے جبکہ ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیراعظم محمد شہبازشریف سے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کی دیرینہ تعمیری شراکت کو سراہا، جو مینجنگ ڈائیریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی قیادت میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے مختلف اقدامات کے ذریعے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی بروقت حمایت کا اعتراف کیا،

جس میں مالی سال 2024 میں 3 بلین ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ، اس کے بعد 7 بلین ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت(ای ایف ایف)اور 1.4 بلین ڈالر کی آرایس ایف شامل ہیں۔ پختہ عزم کے ساتھ کی جانے والی پائیدار اصلاحات کی بدولت پاکستان کی معیشت استحکام کے مثبت آثار دکھا رہی ہے اور اب بحالی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے تعاون کو سراہا جو حکومت کی معاشی اصلاحات کی کوششوں میں رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف اہداف اور وعدوں کو پورا کرنے کی طرف مسلسل پیش رفت کر رہا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلاب کے اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بحالی کے موٴثر اقدامات کے لیے نقصانات کے تخمینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے مضبوط میکرو اکنامک پالیسیوں پر عمل کرنے کے لیے وزیر اعظم کے عزم کی تعریف کی اور آئی ایم ایف کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا کیونکہ پاکستان پائیدار طویل مدتی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقتصادی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

Comments are closed.