نیشنل بینک آف پاکستان میں بدعنوانی کے الزامات، 4 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی غیر مجاز فروخت شامل، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل صدر نیشنل بینک کو خط ، تحقیقات کا مطالبہ
اسلام آباد (آن لائن) نیشنل بینک آف پاکستان پر مبینہ بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں 4 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی غیر مجاز فروخت شامل ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے صدر نیشنل بینک کو خط ارسال کر کے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شئیرز کی غیر مجاز فروخت سے قومی خزانے کو 3 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔خط میں یہ بھی بتایا گیا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مارچ 2024 میں نیشنل بینک سے بیرون ملک شئیرز کی فروخت کا ایکسٹرنیل آڈٹ سرٹیفیکیٹ طلب کیا تھا۔
تاہم، نیشنل بینک نے پیپرا قواعد کے برخلاف یو بی ایل کے فائدے میں شئیرز 2.90 ملین پاو نڈز میں فروخت کیے، اور ان اثاثوں کے عوض حاصل شدہ رقم قومی خزانے میں منتقل نہیں کی گئی۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق اثاثوں کی درست قیمت کا تعین بھی نہیں کیا گیا تھا، جب کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق ان اثاثوں کی اصل مارکیٹ ویلیو 35 ملین برطانوی پاو نڈز تھی۔ سٹیٹ بینک کے واضح احکامات کے باوجود اس معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقم پاکستان منتقل نہ کرنے کو ریگولیٹری فریم ورک کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے صدر نیشنل بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کا حساب لیا جا سکے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
Comments are closed.