ایوان بالا میں قومی اسمبلی سے ترمیم شدہ 27ویں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا

بل کے حق میں 64ممبران نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 4ممبران نے ووٹ دیا
بل کی منظوری کے موقع پر پی ٹی آئی اور جے یوآئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کا شدید احتجاج اور نعرے بازی کی گئی
چیئرمین سینیٹ نے پی ٹی آئی اور جے یوآئی کے منحرف اراکین کو دوبارہ ووٹ ڈالنے کی رولنگ دیدی
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں قومی اسمبلی سے ترمیم شدہ 27ویں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا،بل کے حق میں 64ممبران نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 4ممبران نے ووٹ دیا،بل کی منظوری کے موقع پر پی ٹی آئی اور جے یوآئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کا شدید احتجاج اور نعرے بازی کی گئی،چیرمین سینیٹ نے پی ٹی آئی اور جے یوآئی کے منحرف اراکین کو دوبارہ ووٹ ڈالنے کی رولنگ دیدی،جے یوآئی کے چار سینیٹرز نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

جمعرات کو سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹڑ اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی سے ترامیم کے ساتھ منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا اس موقع پر سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ پی ٹی آئی اور جے یوآئی کے ایک ایک رکن نے 27ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھااور جب انہوں نے ووٹ دیا تو ان پر 63اے لاگو ہوجاتا ہے جس سے وہ نااہل ہوجاتا ہے اور پی ٹی آئی کے رکن نے ایوان میں استعفیٰ دیدیا تھا لہذا ہماری درخواست ہے کہ ان دو حضرات کو ووٹ شمار نہ کیا جائے اس موقع پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ پارلیمان میں ہمارے ایک ممبر پر دبا? ڈالا گیا ہم نے ن لیگ کے ساتھ ادب اور احترام کے ساتھ وقت گزارا مگر ہمارے اوپر نقب لگائی گئی جو کہ زیادتی ہے اور اس حوالے سے جے یوآئی کے سربراہ کا گلہ ن لیگ کو دیتا ہوں اور آج کے بعد بھی معاملات چلیں گے اور اس کو ہم یاد رکھیں گے انہوں نے کہاکہ اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو اس کو ہم نے پارٹی سے نکال دیا ہے اور اس سے استعفیٰ بھی طلب کیا ہے اب اس کا حق نہیں بنتا ہے کہ وہ پارٹی کی پالیسی کے خلاف ووٹ دے اگر کوئی دوست اس کے بعد بھی مخالفت کرتا ہے تو اس کے خلاف 63اے لاگو ہوگا

اس موقع پر وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ دونوں سینیٹرز آئین سے واقف ہیں تاہم 63اے کے تحت اگر کوئی مخالفت میں ووٹ دیتا ہے تو اس کی رکنیت ختم نہیں ہوتی ہے اور اس کے بعد پارٹی کا سربراہ آپ کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے انہوں نے کہاکہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے آئین کو نہیں بگاڑنا چاہیے اس طرح پارٹی سربراہ کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ رکن کو بلا کر اس سے پوچھیں گے کیونکہ بعض اوقات اطلاع بھی بروقت نہیں ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ اس کے بعد اس کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے اور وہاں پر اس کی سماعت ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ جس سینیٹر نے استعفیٰ دیا تھا اس نے تحریری طور پر استعفیٰ دینا ہوگا انہوں نے کہاکہ بعض اوقات جذبات یا تلخی کی وجہ سے ایسی باتیں ہوجاتی ہیں جس پر چیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ نکتہ آسکتا ہے اسی وجہ سے میں نے وفاقی وزیر قانون و انصاف کو یہ پڑھنے کا کہا ہے

انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل شاہ محمود قریشی نے ایوان میں کہا تھا کہ میں نکل رہا ہوں اور ابھی تک میرے پاس ابھی تک تحریری طور پر کچھ بھی نہیں آیا ہے لہذا ابھی تک ان کا استعفیٰ نہیں آیا ہے اس موقع پر وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اس ایوان نے پہلے 27ویں آئینی ترمیمی بل منظور کیا اس بل میں دو چیزوں پر تھوڑی سے کنفیوژن تھی اس کی مذید وضاحت کیلئے مجھے پاکستان بار کونسل اور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت اراکین سینیٹ کی جانب سے کہا گیا ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ چیف جسٹس اپنی پوزیشن پر اس وقت تک رہیں گے جب تک وہ اپنے عہدے سے ریٹائرڈ نہیں ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد جو سینئر ہونگے وہ چیف جسٹس آف پاکستان ہونگے انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 6کے تحت اگرکوئی بھی مارشل لائلگانے کی کوشش کرے گاتو کوئی بھی عدالت اس کی توثیق نہیں کرے گا انہوں نے کہاکہ کچھ کلازز میں ترامیم کی گئی ہیں اس پر ووٹنگ کرائی جائے اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے ترمیم شدہ 27ویں آئینی ترمیمی بل پر رائے شماری کرائی بل کے حق میں 64جبکہ مخالفت میں 4ووٹ پڑے جبکہ پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا چیئرمین سینیٹ نے دو تہائی اکثریت کی بنا پر بل کو منظور کر لیا۔۔۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.