آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس سے قبل بڑی شرط پوری‘وزارتِ خزانہ کی تیار گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ جاری
اسلام آباد (آن لائن) پاکستان نے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس سے قبل بڑی شرط پوری کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ کی جانب سے تیار کردہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں کرپشن کو ملکی معاشی اور سماجی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے اور ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات، احتساب اور عدالتی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طاقتور گروہوں کی کرپشن سب سے خطرناک مسئلہ ہے اور کرپشن کی وجہ سے سرکاری خرچ غیر موٴثر، ٹیکس وصولیاں کم اور عدالتی نظام میں عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔
اینٹی کرپشن اداروں کی کمزور کارکردگی اور غیر مستقل احتساب سے بھی مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں۔ رپورٹ میں نیب سمیت تمام اینٹی کرپشن اداروں کو بااختیار اور جدید بنانے کی سفارش کی گئی ہے، جس پر عمل درآمد سے ملک کی جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد اضافہ ممکن ہے۔مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاروباری قوانین پیچیدہ، غیر شفاف اور سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹ ہیں، جبکہ غیر ملکی تجارت کے ضوابط ضرورت سے زیادہ سخت ہیں اور نجی شعبے کی مکمل صلاحیت استعمال نہیں ہو رہی۔
رپورٹ میں شفاف کاروباری قوانین، پبلک سیکٹر میں جامع اصلاحات، اوپن ڈیٹا نظام، عوامی شمولیت اور کاروباری ریگولیشنز کو مکمل ڈیجیٹل بنانے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق رپورٹ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کا حصہ ہے، جس میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف نے گزشتہ 8 ماہ میں کرپشن اور گورننس کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کے حالیہ اقدامات سے معیشت میں استحکام آیا ہے، پرائمری سرپلس اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی میں کمی دیکھی گئی ہے۔
Comments are closed.