الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ کی طلبی نوٹس الیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے ، علی بخاری

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وکیل نے الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ کی طلبی نوٹس کو الیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔ جمعہ کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وکیل علی بخاری نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کیس میں پیش ہوا تھا انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے وزیراعلی خیبر پختونخوا کوذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا ہم نے اج حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی ہم نے کل کی تاریخ مانگی کیونکہ کل ہمیں صوبائی ڈی آر او نے بھی بلایا ہوا ہے ہم نے کہا ہے کہ کوئی دوسرے ضلعے میں تقریر یا بیان دیتا ہے تو آپ اسے بھی بلا لیں گے جس پر ہمیں کہا گیا ہے کہ عبوری حکمنامہ جاری کریں گے یہ عبوری حکم نامہ کیوں جاری کیا جائے گا۔

الیکشن سے قبل ایسے نوٹس جاری نہیں ہونے چائیے اس نوٹس کو واپس لیا جانا چائیے انہوں نے کہاکہ ایک ہی الزام میں ہمیں ڈی آر او حویلیاں نے بھی طلب کیا ہوا ہے یہاں بھی ہمیں طلب کیا گیاجب الیکشن سر پر ہیں تو ایسے نوٹسز سے الیکشن میں شفافیت ہے برقرار نہیں رہے گی اور الیکشن کے قریب ایسے نوٹسز سے اداروں پر سوالیہ نشان پیدا ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ اج ہمارے وکلا کو بھی عدالتی کاروائی کا حصہ بننے سے روکا گیا ہمیں بتائیں اگر وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے تو کون عدالت میں پیش ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن میں شفافیت برقرار رکھنا عدالتی عملے کی ذمہ داری ہے جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنی نوکری سے جائے گا یہ ائین کہتا ہے کہ الیکشن شفاف ہونے چاہیے انہوں نے کہاکہ میں نے بھی اسلام اباد سے الیکشن لڑا تھا میں اپ کے سامنے کھڑا ہوں کیا مجھے انصاف ملا مجھے انصاف دینے والے تمام ججز 27ویں ائینی ترمیم کی نظر ہو گئے۔

Comments are closed.