درآمدات اور برآمدات کی کلیئرنس مزید تیز اور شفاف بنائی جائے، شہباز شریف

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر حکام کی کسمز کلئیرنس اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ درآمدات اور برآمدات کی کلیئرنس مزید تیز اور شفاف بنائی جائے۔معیشت کے تمام شعبوں میں ٹیکس انفورسمنٹ یقینی بنایا جائے اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی جائے ۔ وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس وصولیوں میں بہتری، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور محصولات بڑھانے کے حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 11 فیصد کے ہدف تک پہنچانے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کسٹمز کلیئرنس میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کلیئرنس کے دورانیے میں نمایاں کمی آئی ہے۔

وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کی اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ درآمدات اور برآمدات کی کلیئرنس مزید تیز اور شفاف بنائی جائے۔ انہوں نے معیشت کے تمام شعبوں میں ٹیکس انفورسمنٹ یقینی بنانے اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے کی بھی ہدایت جاری کی۔وزیراعظم نے تمباکو کے شعبے میں ٹیکس چوری کے تدارک اور غیر قانونی سگریٹ ساز فیکٹریوں کے خلاف موٴثر کارروائی پر ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سرہایا۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس چوروں اور غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف ایف بی آر کے اقدامات میں مکمل تعاون جاری رکھیں۔ وزیراعظم نے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں تمباکو کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے متعدد فوکل پرسن تعینات کیے ہیں، جبکہ حالیہ کارروائیوں میں بڑی تعداد میں غیر قانونی سگریٹس ضبط کی گئی ہیں۔ اجلاس میں ٹربیونلز اور مختلف اداروں میں زیر التواء ٹیکس مقدمات پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل آف پاکستان، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔

Comments are closed.