کس کے آرڈرز پر میرے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں؟، سہیل آفریدی

پشاور ( آن لائن )خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے داہگل ناکے پر تعینات پولیس اہلکاروں سے سخت گفتگو کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی انتظامیہ کے طرزِ عمل پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ ناکے پر روکے جانے پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے ہی شہریوں کے لیے بارڈر جیسا ماحول پیدا کرنا ناقابلِ فہم اور تشویش ناک ہے۔سہیل آفریدی نے پولیس اہلکاروں سے استفسار کیا کہ وہ کس پیغام کو دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں، کیونکہ انہیں دو روز قبل بھی روکا گیا تھا اور آج بھی وہی صورتحال پیدا کی گئی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پرسوں خواتین کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کیا گیا، جو انتظامی نا اہلی اور غیر ضروری طاقت کے استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔وزیراعلیٰ نے پولیس سے سوال کیا کہ یہ آرڈرز کس کی جانب سے دیے جا رہے ہیں، اور یہ کس قانون کے تحت ایک صوبے کے آئینی طور پر منتخب وزیر اعلیٰ کے راستے میں بیریئر کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے سربراہ ہیں، اور انہیں اپنے ہی ملک میں روکنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے بانی کی بہنیں غیر سیاسی اور عام شہری ہیں، لیکن ان کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں کر رہے بلکہ صرف پرسکون طریقے سے بیٹھتے اور اپنا معمول کا کام کرتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے اس طرزِ عمل کو ملک میں تقسیم اور نفرت کو بڑھانے کا ذریعہ قرار دیا اور پولیس اہلکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بڑے افسران کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کریں، کیونکہ اس طرزِ حکمرانی سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔گفتگو کے دوران سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ کچھ دیر انتظار کریں گے اور پھر میڈیا سے تفصیل کے ساتھ اپنا موٴقف بیان کریں گے، تاکہ عوام حقیقت سے آگاہ ہو سکیں۔

Comments are closed.