بھارت تناوٴ میں اضافہ کی کسی بھی کوشش سے باز رہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت اہم سوالات کے جواب دے، پاکستان
اسلام آباد (آن لائن)پاکستان نے ایک بار پھر بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں تناو میں اضافہ کرنے والی کسی بھی کوشش سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اہم سوالات کے جواب فراہم کرے اور دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور اعتماد سازی کے فروغ کے لیے عملی اور اصولی سفارت کاری پر کاربند ہے۔ بھارت تناو میں اضافہ کرنے والی کسی بھی کوشش سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اہم سوالات کے جواب فراہم کرے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو اپنی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرستیں فراہم کر دی ہیں۔ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ افغانستان سے اب تک 15 طلبہ اور 291 پاکستانی شہری واپس آ چکے ہیں پاکستان اور چین کا سٹریٹیجک ڈائیلاگ 4 جنوری کو بیجنگ میں ہوگا۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں، علاقائی و عالمی امور اور اہم دوطرفہ روابط پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور اعتماد سازی کے فروغ کے لیے عملی اور اصولی سفارت کاری پر کاربند ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت نے 31 دسمبر 1988 کے معاہدے کے تحت ایک دوسرے کو اپنی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرستیں فراہم کر دی ہیں۔ معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو یہ معلومات باقاعدگی سے شیئر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کی فہرست وزارتِ خارجہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کی گئی، جبکہ بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اپنی فہرست فراہم کی۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کا حصہ ہے اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تشدد پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو صورتحال کو مزید خراب کرے یا خطے کے امن کے لیے خطرہ بنے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔اسی تناظر میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی ولی عہد نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں، بالخصوص ڈیجیٹل تعاون میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور 2026 میں پاکستان کے سرکاری دورے کی خواہش ظاہر کی۔ ترجمان نے کہا متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے۔ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ترقی اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سال بھر جاری رہنے والے اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل اور باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی قیادت اور عوام کی جانب سے تعزیت پیش کی۔ انہوں نے مرحومہ کی بنگلہ دیش کے عوام کے لیے خدمات کو سراہا اور پاکستان و بنگلہ دیش کے تعلقات کے فروغ میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔صومالیہ اور فلسطین پر پاکستان کے دوٹوک موٴقف پر بات کرتے ہوے ترجمان نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے ایک نام نہاد خطے کو تسلیم کرنے کے اعلان کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔اسی طرح پاکستان فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتا ہے اور القدس شریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ترجمان نے کہا نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے صومالیہ کے معاملے پر متعدد اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ اس کے علاوہ مصر، ازبکستان، صومالیہ اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان نے افغانستان میں موجود پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی سے متعلق بتایا کہ اب تک 15 طلبہ اور 291 پاکستانی شہری واپس آ چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 1199 افراد نے واپسی کے لیے مدد طلب کی تھی۔ باقی شہریوں کی واپسی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ترجمان نے بتایا پاکستان کی سفارت کاری کا محور خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا فروغ ہے، اور پاکستان عالمی و علاقائی سطح پر انہی اصولوں کے تحت اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
ترجمان نے ایک بار پھر بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں تناو میں اضافہ کرنے والی کسی بھی کوشش سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اہم سوالات کے جواب فراہم کرے۔ ترجمان نے بتایا کہ بھارت کے دولہتی اسٹیٹ پراجیکٹ کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ترجمان کے مطابق پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے بھارتی ہم منصب کو باضابطہ سوالات بھیجے ہیں تاکہ پانی کی تقسیم اور پراجیکٹ کی عملداری کے بارے میں وضاحت حاصل کی جا سکے۔ پاکستان نے کہا کہ بروقت جوابات تنازعات سے بچنے اور خطے میں استحکام قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔سیکورٹی معاملات پر ترجمان نے کلبھوشن جادیو کے جرائم کی مذمت کی اور پاکستانی عوام کے خلاف اس کی کارروائیوں پر بھارت سے جواب طلب کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری رہنماوٴں کو رہا کرے اور انسانی حقوق اور تنازعات کے پرامن حل کو یقینی بنائے۔ ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خدشات کا فوری جواب دے، کیونکہ کسی بھی تاخیر سے دوطرفہ تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔چین کے ساتھ تعاون کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ متبادل میکانزم کے تحت دوطرفہ تعاون کے تمام پہلووٴں کا جامع جائزہ لے رہا ہے۔پاکستان اور چین کا سٹریٹیجک ڈائیلاگ 4 جنوری کو بیجنگ میں ہوگا۔ نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر بیجنگ کا دورہ کر رہے ہیں۔
Comments are closed.