راجہ ناصرعباس کا 8فروری کو یوم سیاہ کا اعلان‘ عمران خان باہر ہوتے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ امن بورڈ بن ہی نہ سکتا

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ 8فروری کو یوم سیاہ ہوگا یہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی سربلندی کیلئے ہوگا اور یہ حقیقت میں ان ظالموں سے آزادی کا دن ہوگا۔بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اس طرح نہیں ہوا ہے کہ عوام نے ہر رکاؤٹ کو عبور کرکے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ووٹ دئیے ہی انہوں نے کہاکہ دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اگر آج عمران خان باہر ہوتے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ امن بورڈ بن ہی نہ سکتا‘ جو کام اسرائیل نہیں کرسکا ہے وہ امریکہ کر رہا ہے اور ہم بدترین دلدل میں چلے گئے ہیں کہ ہم نے ان کی حمایت کی ہے انہوں نے کہاکہ 8فروری کو حکومت نے مجبور ہو کر الیکشن کرایا مگراس روز جو ظلم ہوا اور آج جو سیاسی بحران ہے

یہ اسی وجہ سے ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کا دنیا میں امیج ختم ہوا ہے انہوں نے کہاکہ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کو ان بحرانوں سے نکالنے کیلئے لک میں قانون کی پاسداری ہونی چاہیے،پارلیمنٹ کو بااختیار بنایا جائے صوبوں کا حق تسلیم کیا جائے،ملک میں آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہاکہ عمران خان کے بغیر ملک یں استحکام نہیں آسکتا ہے وہ پاکستان کے دلوں میں بستا ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان پاکستان کے عوام کی زد بن چکا ہے اس کے بغیر ملک سے بحران ختم نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ عمران خان نے خود کہا تھا کہ کسی سے بھی انتقام نہیں لوں گا تاہم احتساب سب کا ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ واپسی کا راستہ توبہ ہے اگر عوام کے حقوق پر جو ڈاکہ ڈالا ہے اس پر توبہ کی جائے تو واپسی کا رستہ ممکن ہے انہوں نے کہاکہ ضروری ہے کہ پاکستان کو اس دلدل سے نکالا جائے انہوں نے کہاکہ صحافی بھی پیکا ایکٹ کے خلاف ہمارے ساتھ مل کر یوم سیاہ منائے ۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان سے ملاقاتیں بند کی گئی ہیں انہوں نے کہاکہ خان صاحب کے ذاتی معالجین کو بھی ملنے کا موقع نہیں دیا جارہا ہے

انہوں نے کہاکہ سینیٹرز اور قومی اسمبلی کے اراکین نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشنز دائر کی ہیں اور ان پر اعتراضات لگا دئیے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے سینیٹرز اور قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے مبران کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کریں انہوں نے کہاک عمراں خان کی صحت کے حوالے سے جو خبریں آئی ہیں اس پر تشویش ہیں اور اس حوالے سے بھی جو پٹیشن دائر کی گئی ہے اس کو بھی مسترد کردیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے چیف جسٹس سے ملاقات میں درخواست کی تھی کہ عمران خان سے ملاقات کرائی جائے انہوں مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرائی جائے انہوں نے کہاکہ 8فروری کے یوم سیاہ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں یہ قوم کا ووت ہے جو لوٹا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت میڈیا پر رائے دینے پر بھی قابل گرفت سمجھا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ 8فروری کو پرآمن اور پرعزم طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور اس نظام سے بیزاری کا اظہار کرنا ہے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے عوام تین اپریشنز کا سامنا کرچکے ہیں اور اس کے اثرات آج تک بھگت رہے ہیں انہوں نے کہاکہ اس اپریشن کی ذمہ داری ایک دوسرے پر نہیں ڈالنا چاہیے

خیبر پختونخوا میں عوام اور صوبائی حکومت کی حمایت کے بغیر کوئی اپریشن نہیں کرناچاہیے انہوں نے کہاکہ تیراہ کے عوام کے مسائل حل کرنے چاہیے اور ان کے دکھ درد بانٹنے چاہیے پی ٹی آئی کے چیرمین نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف زیادہ تر کیسز ختم ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ وفاقی آئینی عدالت کے بارے میں بتایا گیا کہ صرف آئینی معاملات آئینی عدالت میں جائیں گے مگر اب اپنی مرضی کے مطابق کیسز آئینی عدالت میں بھجوائیں جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت سسٹم کو قبول کرنے کیلئے عوام کو دبا نہیں سکتی ہے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے نام اور تصویر پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے ہم اپنی ااواز اٹھا رہے ہیں اور یہ آواز ایک دن سنی جائے گی پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ وادی تیراہ میں بے گھر لوگوں کی مدد کیلئے 4 ارب روپے جاری کئے تھے اور اب صوبائی حکومت نے اس متاثرین کا بیڑا اٹھایا ہے یہ رقم ان افراد کی کفالت پر استعمال ہوگا انہوں نے موجودہ حکومت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے شدید خوفزدہ ہے اور اس کو نااہل کرنے کیلئے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں اور الیکشن کمیشن نے بھی نوٹس دیا ہے انہوں نے کہاکہ کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسے کو روکنے کی شدید کوشش کی گئی بدحواسی میں بیانئے بنائے جارہے ہیں اور یہ سب پاش پاش ہونگے۔

Comments are closed.