نواز شریف آ رہے ہیں یا نہیں یہ سوال بار بار نہیں پوچھنا چاہیے ، 21 اکتوبر کو پاکستان آ رہے ہیں،شہباز شریف
لاہور(آن لائن)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف آ رہے ہیں یا نہیں یہ سوال بار بار نہیں پوچھنا چاہیے ، اللہ کو منظور ہو ا تو نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان آ رہے ہیں، نواز شریف کی واپسی میں کو ئی قانونی رکاوٹ نہیں وہ قانون کے سامنے پیش ہو ں گے ۔
صاف شفاف الیکشن ہونے چاہیے، جو سیاسی جماعت جیتے وہ حکومت بنائے ،ا حتساب سب کا ہونا چاہیئے پر آج تک احتساب کی لاٹھی صرف سیاست دانوں پر چلی ، پی ٹی آئی نے ملک کو مسائل کے گرداب میں ڈبویا ہم نے ملک کو دیوالیہ ہو نے سے بچایا،لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم شہباز شریف نے یورپی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس اسکیم میں توسیع کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ اور ووٹ دینے والے ممالک کا شکریہ۔ یورپی پارلیمنٹ کے معزز ارکان نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مثبت سوچ کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں مزید توسیع سے پاکستانی برآمدات کو فائدہ ہوگا۔ اس سلسلے میں برسلز میں پاکستانی مشن اور متعلقہ ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ یورپی ممالک کو برآمدات پر خصوصی رعایتوں سے معیشت بہتر کرنے میں مدد ملے گی اور یورپی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کو وجود رکھنے میں سہولت ہوگی۔
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد کی وطن واپسی سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ سوال بار بار نہیں پوچھنا چاہیے کہ نواز شریف آ رہے ہیں یا نہیں، نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان آ رہے ہیں ان کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ، قانونی ماہرین نے انہیں گرین سگنل دیدیا ہے ۔شہباز شریف کا کہناتھا کہ 16 ماہ کی حکومت میں ہمالیہ نما چیلنجز کا سامنا تھا۔ سیلاب اور آئی ایم ایف کی شرائط پہاڑ کی طرح سامنے کھڑی تھیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے ملک کو مسائل کے گرداب میں ڈبو دیا۔ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے شرائط طے کیں اور خود انکار کیا۔ ہم نے سیاست کو قربان کرکے ریاست کو بچایا۔ یہ کام ہمارے لیے آسان نہیں تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد قریب آئی تو انہوں نے ریاست سے کھیلنے کی کوشش کی۔ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کردیں۔ معاشی بدحالی، لانگ مارچ اور دھرنے ہمیں ورثے میں ملے۔ گزشتہ حکومت سے مہنگائی منتقل ہوئی جس میں بتدریج اضافہ ہوا۔
ہم نے آئی ایم ایف سے کامیاب معاہدہ کیا، کسانوں کو زرعی پیکیج دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ خدانخواستہ پاکستان دیوالیہ ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ دوائیوں کی دکانوں، بینکوں کے باہر پیسے نکلوانے کے لیے رش ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے مسائل حل کرنے کے لیے جان توڑ کوششیں کیں۔ ہم نے تاریخی سیلاب سے نمٹنے کے لیے توانائیاں صرف کیں۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے اللہ نے ہماری مدد کی۔شہباز شریف نے کہا کہ ایک گروہ نے اپنی سیاست کو بچانے کے لیے ریاست کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 90 کی دہائی میں نواز شریف کی اقتصادی اصلاحات کی دنیا معترف ہے۔ نواز شریف نے پاکستان کو سی پیک کا تحفہ دیا۔ مخلوط حکومت کی کوششوں سے آئی ایم ایف معاہدہ ممکن ہوا۔ یہ کہنا مناسب نہیں کہ ہم 16 ماہ میں ہر میدان میں کامیاب ہوئے۔ مخلوط حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہو جاتا تو آج سڑکوں پر جلوس نکل رہے ہوتے۔ شہباز شریف نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے، اچھے دن جلد آئیں گے۔ ہم نے انتہائی مشکل وقت اور محدود وسائل میں قوم کی خدمت کی۔ نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس آ کر مینار پاکستان پر جلسہ کریں گے۔
نواز شریف 21اکتوبر کو معاشی پروگرام کا ایجنڈا پیش کریں گے۔شہبا ز شریف کا کہنا تھا کہ 1990 میں جب نواز شریف پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تھے تو اس وقت جو معاشی اصلاحات آئی تھیں وہ پورے پاکستان کے لیے ایک نیا ماڈل تھا، لوگ باتیں کررہے تھے کہ کیا پاکستان اتنی بڑی اصلاحات کا متحمل ہو سکتا ہے، یہ اس وقت پاکستان کے روپے کی قدر بھارت کے روپے سے زیادہ تھی اور بھارتی وزیر اعظم نے نواز شریف کے اصلاحاتی ماڈل کو وہاں نقل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 1997 میں جب نواز شریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو 28 مئی کو پاکستان نے بھارت کے دھماکوں کے جواب میں 6 دھماکے کیے اور پاکستان ایٹمی طاقت بنا، جو ترغیبات اور دھمکیاں دی گئیں وہ آپ سب کے سامنے ہیں، پھر وزیر اعظم واجپائی بذریعہ روڈ پاکستان تشریف لائے اور مینار پاکستان جا کر انہوں نے کہا کہ جب پاکستان بنا تو ہمیں گھاوٴ لگے تھے اور آج ہم پاکستان کو دل سے تسلیم کرتے ہیں، یہ پاکستان کی تاریخی اخلاقی فتح تھی۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس کے بعد کارگل کا واقعہ ہو گیا اور ہر چیز پر پانی پھر گیا یا تو کارگل کے ذریعے کشمیر فتح کر لیتے تو آج تاریخ اور ہوتی، کارگل کے واقعے کے شدید نقصانات سب کے سامنے ہیں، بین الاقوامی سطح پر ہمارا بائیکاٹ کر دیا گیا اور کارگل کے لیے نواز شریف کو بے بنیاد طور پر ذمے دار ٹھہرانے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 4 جولائی کو نواز شریف امریکا تشریف لے گئے اور وہاں صدر بل کلنٹن سے ملاقات ہوئی اور اس کے نتیجے میں کارگل کی لڑائی بند ہوئی، نواز شریف نے پاکستان کو تو بچا لیا لیکن اپنے اقتدار کو انہوں نے قربان کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ 2017 سے 2018 تک کا سارا دورانیہ آپ کے سامنے ہے، میں جانتا ہوں کہ نواز شریف نے سی پیک کو پاکستان لانے کے لیے کیا کاوشیں کیں اور اس کے رستے میں کیا کیا پہاڑ نما رکاوٹیں کھڑی کی گئی، چین کے صدر شی جن پنگ کا ستمبر 2013 میں دورہ پاکستان یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تو اس سے چند رات پہلے 11 بجے چینی سفیر نے مجھے کہاکہ دورہ ملتوی ہو گیا ہے کیونکہ یہاں دھرنے والے اٹھنے کو تیار نہیں تو ہم کوئی سیکیورٹی رسک نہیں لے سکتے، میں نے نواز شریف سے بات کی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس کا کوئی حل نکالو ورنہ پاکستان کا نقصان ہو جائے گا۔ ہمارے حوالے سے ڈیلوں کی باتیں رہی ہیں جو بے بنیاد ہیں اگر مسلم لیگ ن یا میاں نواز شریف ڈیلیں کرتے ہمیں جیلیں نہ کانٹا پڑتی،12اکتوبر کو مجھے اور میری فیملی کو کئی ماہ تک غائب کیا گیا ہمارے بوڑھے والدین کو بھی کوئی علم نہیں تھا کہ ہم کہاں ہیں لیکن ہم نے تو کوئی جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کیا، نواز شریف نے تو کبھی اپنے کارکنوں کو نہیں کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرو،ڈیل ہو تی تو نواز شریف کو ڈھیل ملتی
ہمیں ملک بدر کیا گیا ، حمزہ کو یرغمال بناکر رکھا گیا،عمرا ن خان نے قمر جاوید باجوہ کو کہا کہ میں آپ کو توسیع دوں گا میری حمایت کرو۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ صاف شفاف الیکشن کرائے جو سیاسی جماعت جیتے وہ حکومت بنائے۔ تحریک عدم اعتماد آئی تو ذاتی مقصد کیلئے ریاست کیساتھ کھیل کھیلا گیا۔میرے قائد اور مخلوط حکومت کا فرض تھا کہ ریاست کو بچائیں۔ پنجاب سے ہم الیکشن جیت چکے تھے اسے تبدیل کیا گیا، 2018میں ہمارے لوگوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ 2018کے سروے میں نوازشریف سب سے آگے تھے لیکن ہم سے اقتدار چھینا گیا۔ خارجہ پالیسی سے تعلقات تباہ کیے گئے جنہیں ہم نے بحال کیا۔75 سال میں سب سے زیادہ نشانہ صرف اور صرف سیاست دان بنے۔احتساب سب کا ہونا چاہیئے پر آج تک احتساب کی لاٹھی صرف سیاست دانوں پر چلی۔صحافی کی گمشدگی سے متعلق ایک سوال پر شہبا ز شریف کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ وہ آگئے ہیں لیکن پتہ کرکے بتاؤں گا سنا ہے کہ وہ آگئے ہیں۔
Comments are closed.