پریکٹس اینڈپروسیجرکیس کا فیصلہ (پیر)کو جاری کیے جانے کاامکان ، سماعت کیلئے انتظامات مکمل
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈپروسیجرکیس کامختصرفیصلہ آج (پیر)کو جاری کیے جانے کاامکان ہے جبکہ کیس کی تیسری سماعت کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے سماعت سرکاری ٹی وی کے ذریعے براہ راست نشرکی جائیگی اس حوالے سے بنچ بھی تشکیل دیاجاچکاہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 15 رکنی فل کورٹ بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیی بھی کہ چکے ہیں کہ تین وکلاء کوسن کرفیصلہ کردیں گے انھوں نے وکلاء کوتیاری کے لیے بھی کہاہواہے۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بنچ کیس کی سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے فریقین کواطلاعاتی نوٹسزبھی جاری کیے جاچکے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ 2023کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کی گئی تھی جبکہ عدالت نے مسلم لیگ ن ،ایم کیوایم سمیت دیگر باقی رہ جانے والے وکلاء کوتیاری کرکے پیش ہونے اور تحریری دلائل بھی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے کہاتھا کہ پیر کوسماعت مکمل کرکے فیصلہ دیں گے۔فل کورٹ بنچ کے سربراہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ریمارکس دیے ہیں کہ جب مارشل لاء لگتے ہیں تو ہتھیارپھینک دیتے ہیں، پارلیمان کچھ کرے رتو سب کو حلف یاد آجاتا ہے،پارلیمنٹ کوقانون سازی کااختیارہے ،
یہ قانون مستقبل کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے سینئر ججز پر بھی لاگو ہوگا،چیف جسٹس نے ایک فیصلہ کرلیا تو مطلب اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔کہ اگر اپیل کا حق دے دیا گیا ہے تو کیا قیامت آگئی،سنگین غداری میں بھی متاثرہ فریق اپیل کرے گا۔ ازخودنوٹس کے غلط استعمال پر پارلیمنٹ نے اپیل کا حق دیا ہے، سپریم کورٹ جنگل کا بادشاہ ہے جو چاہے کرے،ایسے تو ملک آئین پر نہیں ججز کے فیصلوں کے ذریعے بنائے قوانین پر چلے گا۔فروضوں کی نہیں حقیقت کی زبان جانتا ہوں،مولوی تمیز الدین سے شروع کریں یا نصرت بھٹو سے،انہوں نے کہا آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کرنا چاہو کرو، پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہونے نہیں دے سکتے۔
Comments are closed.