اس ملک کا بہت بڑا المیہ منافقت ہے کوئی نہیں مانتا کہ میں چور ہوں اگر کوئی مان لے تو پھر میں اس ووٹ دے دوں،محسن بیگ

اسلام آباد(آن لائن)معروف تجزیہ کار و صحافی محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ اس ملک کا بہت بڑا المیہ منافقت ہے کوئی نہیں مانتا کہ میں چور ہوں۔اگر کسی غلط آدمی لانا ہے تو اس میں سے کچھ تو بہتر ہوسکتا ہے۔اس ملک میں عام آدمی کچھ مل سکتا ہے خوابو ں میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف لندن علاج کرانے گئے تھے عدالت کی اجازت سے گئے تھے المیہ یہی ہے کہ اور حقیقت یہی ہے اس ملک کی اپنی قانون کو ٹلٹ کیا جاتاہے۔یہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا ہمارے لئے تو لاء ہے ہم پر دھونس دھاندلی چل سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ عام قیدی مارے جائیں تو اس کو لوکل ہسپتال میں نہیں لے کے جاتے۔نواز شریف کی لیگل ٹیم نے کہہ دیا ہے کہ ان کو حفاظتی ضمانت مل سکتی ہے اتنا پہلے تو نہیں لیں گے حفاظتی ضمانت تو ملتی ہے سرنڈر کرنے کے ایک ہفتہ میں دس یا پندرہ دن مل جاتی ہے۔ہماری ماشاء اللہ جو عدالتیں یں اور جس قسم کے قوانین ہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے

یہ میاں نواز شریف کا کوئی کریمنل کیس نہیں ہے وہ کہہ رہے کہ مفرور ہے مفرور ہے وہ تو عدالت سے اجازت لیکر گیا ہے جیل توڑ کر تو نہیں بھاگا تھا میڈیکل گراؤنڈ پر آپ نے اس کو بھیج دیا۔میں تو سولہ دن جیل میں رہ کر آیا ہوں مجھے پتا ہے کہ جیل میں کیا ہوتا ہے۔جیل تو غریب آدمی اور عام آدمی ہے امیر آدمی جس کے پاس پیسہ ہے اس کیلئے جیل نہیں ٹو تھری سٹار ہوتا ہے جہاں آپ ریلکس کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈیل سب کرتے ہیں سارے سیاستدان ڈیل کرتے ہیں مجھے بتا دیں کوئی سیاستدان ڈیل نہ کرتا ہوں۔

یہ تو چھوٹے موٹے بندوں سے بھی ڈیل کیلئے تیار ہوتے ہیں۔پاکستان میں سیاستدان اسی طرح ہے اور یہ اسی طرح رہے گی اور اسٹیبلشمنٹ کے گرد گھومتی ہے یہ تو گیٹ نمبر چارپانچ پر لائین لگی ہے کہ ہماری ڈیل کرادو۔کوئی میرٹ پر نہیں آتا ہے مجھے 38سال ہوگئے ہیں اس فیلڈ میں ایک بھی بندہ میرٹ پر نہیں آتا سب کی ہسٹری بتا سکتا ہوں نواز شریف کی بھی ہوئی ہوگی ڈیل۔وہ جو انقلاب لا رہا تھا وہ بھی ڈیل کرکے آیا تھا وہ کوئی آسمان سے نہیں آیا تھا۔ملک میں اس وقت سیاسی استحکام بھی ضروری ہے سیاسی حکومت ہی ملک کو مسائل سے نکال سکتی ہے اسے پکڑ لو ڈالر نیچے لے اس طرح حکومتیں نہیں چلتی اس بار بھی چوں چوں کا مربہ بنا لیا اپنے ہاتھ میں گیم رکھتے ہیں پچھلی بھی انہوں نے کہاکہ ہاتھوں سے گیم نکل گئی ہے حالانکہ گیم ان کے ہاتھ میں تھی۔یہ ملک بچ گیا تو گیم بھی بچے گی آپ دیکھ لیں فلسطین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

تھوڑا سا احتیاط کریں انتخابات میں تاخیر نہ کریں الیکشن ہونا چاہئے ہر ایک کو موقع دیں لوگوں کوفیصلہ کرنے دیں گے مسائل کا حل سیاسی استحکام میں ہے۔پرائیویٹ انویسٹر یاسی حکومتوں سے مذاکرات کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔کب تک بھیک مانگیں۔سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر الیکشن لڑتے ہیں۔اپنے کام بتا کر ووٹ لیا جاتا ہے بیانہ یہ نہیں ہوتا ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جائیں اور کتابی باتیں کریں۔حقیقت پسندی کی طرف جائیں ضیاء صاحب بہت کچھ کہتے رہے ہر حکومت اپنی پچھلی مثالیں دیکر کر ووٹ لیتی ہیں جیسے عمران خان نے بتایا تھا کہ یہ کریں گے وہ کریں گے ان کے پاس ووٹ لینے کیلئے ماضی میں کچھ کرنے کا بیانیہ ہے۔جس طرح کا بندہ آپ کہہ رہے ہیں ایسا بندہ پھر باہر سے ہی لانا پڑے گا پاکستان میں ایسا کوئی بندہ نہیں ہے اور نہ ہی سیاستدانوں میں ایسا کوئی ہے۔

انہوں ن کہا کہ پاکستان میں عام آدمی کو کچھ نہیں لمتا ہے خوابوں میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہم بھی نیا پاکستان جیسے خواب دیتے رہے حقیت دیکھیں ایسے خوابوں کی حقیقیت انتہائی تکلیف دہ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی غلط آدمی لانا ہے تو اس میں سے کچھ تو بہتر ہوسکتا ہے۔اس ملک میں عام آدمی کچھ مل سکتا ہے خوابو ں میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں جب اٹھائیں گے حقیقت پھر تلخ ہوگی۔اس ملک کا بہت بڑا المیہ منافقت ہے کوئی نہیں مانتا کہ میں چور ہوں اگر کوئی مان لے تو پھر میں اس ووٹ دے دوں یہاں تو منافقت ہے ہم نے تو کچھ نہیں نہ ہم سیاست میں تھے نہ بیورو کریسی میں تھے۔ بیوروکریسی پولیس میں دیکھ لیں ہر بندہ کہتا ہے میں ایماندار ہوں ملک کی حالت دیکھ لیں۔

Comments are closed.