عام انتخابات انشااللہ 8 فروری کو ہوں گے،چیف جسٹس کے ریمارکس
اسلام آباد(آن لائن )ملک میں 90روز میں عام انتخابات متعلق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی دستخط شدہ دستاویز سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی، صدر ہاوس کے گریڈ 22 کے افسر کے دستخطوں سے جواب جمع کروایا گیا۔صدر مملکت کی جانب سے 8فروری2024 کو انتخابات کی تاریخ دینے پر رضہ مند ظاہر کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے 8فروری کو انتخابات کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں پیش کیا جبکہ اٹارنی جنرل نے انتخابات سے متعلق نوٹیفکیشن کی کاپی سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔عدالت نے حکمنامے کے ساتھ انتخابات سے متعلق تمام درخواستیں نمٹا دیں۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس د ئیے ہیں کہ عام انتخابات انشااللہ 8 فروری کو ہوں گے۔تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ نے90روز میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق دائر درخواستیں نمٹانے کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ۔ حکمنامہ میں کہاگیاہے کہ ماضی قریب میں ایک وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا، تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا،سپریم کورٹ نے سیاسی معاملے پر ازخود نوٹس لیا۔صدر مملکت نے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کی جو غیرآئینی عمل تھا، تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے،
غیرآئینی طور پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہاہے کہ حیران کن طور پر صدر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنیکا اختیار نہیں تھا لیکن انہوں نے کی،جبکہ صدر کے پاس تاریخ دینے کا جو اختیار تھا وہ استعمال نہیں کیا گیا،عدالت کا کہنا ہے کہ عوام کو منتخب نمائندوں سے دور نہیں رکھا جاسکتا،صرف عوام کے مفاد میں آئینی ادارے اہم فیصلے کر سکتے ہیں،امید کرتے ہیں تمام آئینی ادارے مستقبل میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے،امید کرتے ہیں ہر ادارہ پختگی اور سمجھ کے ساتھ چلے گا۔سپریم کورٹ نے کہاکہ آئین میں واضح ہے کہ ممبران اسمبلی کی اکثریت تحریک عدم اعتماد منظور کر سکتی ہے،انتخابات کی تاریخ نہ آنے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا، اس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید انتخابات ہوں گے ہی نہیں،عدالت کو دوسرے آئینی اداروں کا کردار اپنا نا نہیں چاہئے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے گزشتہ روز جمعہ کوسماعت کی، سماعت مکمل ہونے کے بعدجاری حکم نامہ میں کہاگیاہے کہ 2 نومبر 2023 کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا، قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوا ئس پر تحلیل کی گئی یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صدر اور الیکشن کمیشن کے مابین اختلاف ہوا،وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ 13 ستمبر 2023 کو صدر نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا،چاروں صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے حکمنامہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا،اٹارنی جنرل نے صدر کی منظور ی سے سیکرٹری ایوان صدر کے دستخط شدہ دستاویزات عدالت میں پیش کئے، قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد الیکشن تاریخ پر صدر اور الیکشن کمیشن میں اختلاف اور تعطل پیدا ہوا،وکیل پی ٹی آئی نے صدر کا الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط بھی دکھا دیا،خط میں صدر نے کمیشن کو سیاسی جماعتوں اور صوبوں سے مشاورت کا کہا،خط میں کمیشن کو عدلیہ سے بھی رہنمائی لینے کا بھی کہا گیا کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے الیکشن تاریخ پر ؟ چیف جسٹس کے صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز سے سوال کرنے پر بتایاگیاکہ انھیں کوئی اعتراض نہیں، صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے ،صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا،سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی قردار نہیں، صدر مملکت اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے،تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں،صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے،ہر آئینی آفس رکھنے والا اور آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں،آئین پر علمداری اختیاری نہیں ، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیا،سپریم کورٹ آگاہ ہے ہم صدر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک تشویش کا شکار ہوا،ہر آئینی آفس رکھنے والا اور آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں،آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں،آئین پر علمداری اختیاری نہیں ،صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیا،سپریم کورٹ آگاہ ہے ہم صدر اورالیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے،انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک تشویش کا شکار ہوا،سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہی، اعلیٰ آئینی عہدہ ہونے کے ناطے صدر مملکت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے،یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے،
آئین کی سکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے،سپریم کورٹ صرف سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے،یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ہر ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،صدر مملکت یا الیکشن کمیشن دونوں پربڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،ہم صرف یہ چاہتے تھے صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی سہولت کاری کریں، انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے، یہ ذمہ داری اْن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اْٹھا رکھا ہے، چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر مملکت یا الیکشن کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے،حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں ،آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ،قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی ،وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا ،اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا ،ہم نے صدر کی ایڈوائس کے بغیر پی ٹی آئی حکومت میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر از خود نوٹس لیا،سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا،اس وقت کے وزیر اعظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھا،اس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی،اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا، اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا،عوام پاکستان حقدارہیں کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں،ہم محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارا کردار صرف سہولت کاری کا ہے،انتخابات کا معاملہ تمام فریقین کی رضامندی سے حل ہو چکا ہے، 8 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے، آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے، عدالت نے حکمنامہ کے تمام درخواستیں نمٹا دیں، اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی ذعتراض نہیں کیا،صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پورے ملک کی تاریخ دے دی،وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابذت کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ انتخابات انشااللہ 8 فروری کو ہوں گے،ہم نے انتخابات کے انعقاد کیلئے سب کوو پابند کر دیا،کوئی رہ تو نہیں گیا،درخواست گزار منیر احمد ایک مشکوک شخصیت ہیں،ان پر بہت سے سوالات ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ اگر سب خوش ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں،الیکشن کمیشن اور تمام فریقین کی رضامندی ہے،تمام ممبران نے متفقہ طور پر تاریخ پررضا مندی دی لیکن کسی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا،تمام فریقین کے وکلا نے جواب دیا کہ ہم سب خوش ہیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آئینی بحث کو آئندہ کیلئے چھوڑ دیا ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی،چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ ٹھیک ہے اب ہم حکم نامہ لکھواتے ہیں،تمام فریقین بیٹھ جائیں، حکم نامہ لکھوانے میں وقت لگے گا ، تھک نہ جائیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کو پتہ ہے ہم نے کیسے عملدرآمد کروانا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ میڈیا پر انتخابات کے حوالے سے مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے زریعہ کرروائی کروائیں،اگر میں زندہ رہا تو میں بھی یہ ہی کہوں گا ،اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے،اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی کریں گے ،آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے۔قبل ازیں جمعہ کو سپریم کورٹ میں ملک میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 8 فروری کو کرانے سے متعلق نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں پیش کیا۔ تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اور اٹارنی جنرل پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدر اور الیکشن کمیشن کی ملاقات کی منٹس عدالت کو کچھ دیر فراہم کردیتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر کیس کو آخر میں ٹیک اپ کر لیتے ہیں، پہلے ہم روٹین کے مقدمات سن لیں، بعد میں انتخابات کیس سنیں گے۔
اس موقع پر سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کر دیا گیا، وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے چیف الیکشن کمشنر کا انتخابات کی تاریخ سے متعلق خط عدالت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن وفد ملاقات کے منٹس بھی عدالت میں پیش کردیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں پیش کیے گے ریکارڈ پر صدر کے دستخط نہیں ہیں، صدر مملکت نے دستخط کیوں نہیں کیے، پہلے ان دستاویز پر صدر مملکت کے دستخطکروائیں، پھر آپ کو سنتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کے نمائندے بھی موجود ہیں، صدر مملکت کی طرف سے یہاں کوئی نہیں ہے اور آفیشلی دستخط بھی نہیں ہیں، صدر مملکت نے نے دستخط کیوں نہیں کیے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت نے اپنی رضا مندی کا لیٹر الگ سے دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ صدر مملکت کی رضا مندی کا خط کہا ہے، ایوان صدر یہاں سے کتنا دور ہے، ہم ایسے نہیں چھوڑیں گے، صدر مملکت کی آفیشلی تصدیق ہونی چاہیے۔ان ریمارکس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے صدر مملکت کے دستخط ہونے تک سماعت میں وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے عام انتخابات آٹھ فروری کو کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا، نوٹی فکیشن الیکشن ایکٹ کی دفعہ 217 تحت جاری ہوا ہے، عدالت میں پیش کیے گئے نوٹیفکیشن پر تین نومبر کی تاریخ درج ہے۔اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کا جاری کردہ نوٹی فکیشن عدالت میں پڑھ کر سنایا جس کے بعد چیف جسٹس نے حکمنامہ لکھوانا شروع کیا۔حکمنامے میں کہا گیا کہ 2 نومبر 2023 کی صدر مملکت و الیکشن کمیشن کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا، قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوانس پر تحلیل کی گئی یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صدر اور الیکشن کمیشن کے مابین اختلاف ہوا، چاروں صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے حکمنامہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔اس میں کہا گیا ہے کہ صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے، صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں، صدر مملکت اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے۔حکم کے مطابق تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے، ہر آئینی آفس رکھنے والا اور آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں۔بعدازاں عدالت نے تمام درخواستیں نمٹادیں۔
Comments are closed.