آج ہم فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ نہیں دیں گے تو تسلیم کرنا پڑے گا ہم کل بھی غلام تھے اور آج بھی ہیں، مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد /کوئٹہ (آن لائن)جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی امیر اور قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ چمن میں پر امن دھرنے کے مطالبات کو مذاکرات سے حل کیا جائے، پاک افغان بارڈر چمن کے عوام کی روزگار کا واحد راستہ ہے۔تفصیل کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے ان کے رہائشگاہ پر شہید اسلام مولانا محمد حنیف رح کے جانشین جمعیت علما اسلام کے رہنما مولانا مفتی محمدقاسم کی قیادت میں وفد کی ملاقات جماعتی سیاسی علاقائی چمن کیموجودہ حالات پرلت(دھرنا)پاسپورٹ اور پاک افغان باڈر کے صورتحال پرتبادلہ خیال مولانا فضل الرحمان نے مولانا مفتی محمد قاسم کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ اسلام تمام مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے ۔قوام متحدہ نے قرارداد پاس کی، فلسطینی بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے، ہزاروں بچے شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں چھوٹے چھوٹے بچے لاوارث ہو چکے ہیں، مائیں اپنی زندگی کے قربانیاں دے چکی ہیں، گھر اجڑ چکے ہیں، خاندان تباہ ہوچکے ہیں، پورا شہر ملبہ بن گیا ہے،
کیا دنیا کو کہیں بھی انسانی حقوق نظر نہیں آرہے کیا دنیا کو اسرائیل کے یہ مظالم نظر نہیں آرہے کیا ظلم اور تشدد کا مستحق صرف مسلمان ہے دنیا میں ہر ایک آئے ہم پہ حملہ کرے، ہر ایک آئے افغانستان کو بارود کا نشانہ بنائے، بارود کی آگ برسائے، ہر ایک آئے عراق پر بارود برسائے، ہر ایک آئے لیبیاء پر بارود برسائے، ہر ایک آئے اسلامی دنیا پر دبا ڈالیں اور اس کے باوجود یہ جمہوریت کی بات کرتے ہیں، یہ قوموں کے آزادی کی بات کرتے ہیں، قوموں کی حریت کی باتیں کرتے ہیں، کس بات پر قوموں کی حریت کی باتیں کرتے ہو۔ہم نے اس غلامی سے پاکستان کو نجات دلانا ہے 300سال تک انگریز کے ساتھ اس غلامی کے لیے نہیں لڑے! ہماری ایک تاریخ ہے میرے بھائیو! ڈیڑھ سو سال تک انگریز کے تسلط کے خلاف میرے اکابر و اسلاف لڑے ہیں، میرے بزرگ لڑے ہیں، جمعیت نے مولانا محمد حنیف شہید جیسے قربانی پیش کئی ہے بالاکوٹ اس کے گواہ ہیں، حاجی صاحب ترنگزئی کی قبر اس کی گواہ ہے، اسیر مالٹا کی قبر اس کی گواہ ہے، یہ ساری تاریخ ہماری وہ تاریخ ہے جب ہم نے آزادی کی جنگ لڑی تھی، آزادی اور حریت کی جنگ لڑی تھی، اگر ہم آج فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ نہیں دیں گے، ان کے مجاہدین کا ساتھ نہیں دیں گے تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم کل بھی غلام تھے اور آج بھی غلام ہیں، بھلا یہ آزادی کی باتیں کرتے ہوآزادی کی بات صرف ہم کرسکتے ہیں میری تاریخ آزادی کی ہے میری تاریخ آزادی کے لیے قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ اس خطے میں سیاسی تاریخ میری پرانی ہے اور کسی کا نہیں جب تم انگریز کو سلوٹ کر رہے تھے تو میں انگریز کی گولی سینے پہ کھا رہا تھا، مجھے تمہاری تاریخ بھی معلوم ہے اورمجھے اپنی تاریخ بھی معلوم ہے اس موقع پر الحاج مولانا داد محمد حاجی عبیداللہ سید علی بھی موجود تھے۔
Comments are closed.