190 ملین پاؤنڈ سکینڈل تفتیش کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور قومی احتساب بیورو کی ٹیم کے درمیان 190 ملین پاوٴنڈ سکینڈل کی تفتیش کے حوالے سے اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے عمران خان نے نیب کی تفتیشی ٹیموں کے سامنے نہ صرف دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا بلکہ وہ جلد باہر آنے اور دوبارہ وزیراعظم بننے کا دعویٰ کرتے رہے، انہوں نے القادر ٹرسٹ اور 190 ملین پاوٴنڈ سکینڈل سے متعلق زیادہ تر سوالات کا جواب مجھے ابھی یاد نہیں، میرے وکلاء کو بلاو کہہ کر دیا وہ براہ راست نیب کو دھمکیاں دیتے رہے ان کے تمام جوابات کو ریکارڈ بھی کرلیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کی تفتیش کے موقع پر اڈیالہ جیل حکام نے ایک الگ سے کمرہ مختص کیا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو تفتیشی ٹیم کے سامنے ایک کرسی پر براجمان کیا گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے چار دنوں کی تفتیش کے دوران نیب ٹیموں سے عدم تعاون کیا اور رویہ دوران تفتیش انتہائی متکبرانہ رہا،نیب کی تفتیشی ٹیم نے متعدد بار سابق وزیر اعظم کے سامنے 190 ملین پاوٴنڈ سکینڈل کی دستاویزات رکھیں اور اس سکینڈل سے متعلق متعدد سوالات بھی کئے گئے تاہم سابق وزیراعظم نے اکثر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیااورمسلسل اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوال و جواب کا مطالبہ کرتے رہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم القادر ٹرسٹ سے متعلق سوالات پر اسے روحانیت اور صوفی ازم کا بڑا منصوبہ قرار دیتے رہے،ہر سوال کے جواب میں لمبی تقریر جھاڑتے اورانتقامی کارروائیوں کا ذکر کرتے رہے،ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف نے 190 ملین پاوٴنڈ سے متعلق تمام ملبہ شہزاد اکبر اور ایک سابق عسکری عہدے دار پر ڈالتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر اور سابق چیئرمین نیب کے پاس جو دستاویزات تھیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں
،چیئرمین تحریک انصاف نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے اس سارے معاہدے کی منظوری دی تھی اب سب مکر گئے تاہم نیب ٹیم نے اس وقت اس بارے کابینہ اجلاس کے منٹس سامنے رکھے جس پر سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں بطور وزیراعظم اس سارے معاملے کا اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی دوران تفتیش بہت سے فیصلے غلط کرنے کا اعتراف بھی کرتے رہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب دونوں کیسز کا تمام ریکارڈ دستاویزات ماضی کے اجلاسوں کے منٹس ساتھ لیکر جاتی رہی ہے،دوسری جانب تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی آج بھی خود کو وزیراعظم ہی سمجھتے ہیں،جب انھیں سکینڈل سے متعلق دستاویزات دکھائی جاتیں تو کہتے مجھے یاد نہیں،وہ تفتیشی ٹیم کے اراکین کے نام پوچھتے ہیں اور پھر دھمکیاں دیتے ہیں کہ مجھے یہاں سے نکلنے دو پھر تم سب کو دیکھ لوں گا،دوران تفتیش جو جو باتیں انہوں نے کی ہیں وہ سب ریکارڈ کرلی گئی ہیں جو مناسب فورم پر پیش کی جائے گی ۔
Comments are closed.