فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ،مسئلہ دو ریاستی حل پر مشتمل ہے ،پاکستان

اسلام آبا د(آن لائن)پاکستان نے کہاہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں ،مسئلہ دو ریاستی حل پر مشتمل ہے ،ہم اسرائیل کے پشتی بانوں کو کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو تشدد روکنے اور قیام امن پر راضی کریں،ڈاکٹر عافیہ سے متعلق بیانات کو دیکھ رہے ہیں، امریکی حکام کے ساتھ معاملے کو اٹھائیں گے ،افغان عبوری حکام پاکستان مخالف بیانات کی بجائے ملک میں قیام امن پر توجہ دیں اور دہشت گرد گروہوں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کریں،ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار صحافیوں کو بریفنگ او رمختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ افریقہ نے گھانا میں پیس کیپنگ اجلاس میں شرکت کی،کانفرنس میں پاکستان نے 19 وعدے کیے جو کہ اس کے امن کے عزم کا اظہار ہیں

،گھانا میں شہریار اکبر نے گھانا کے صدر اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں،انہوں نے پیس آپتیشنز جے انڈر سیکرٹری سمیت متعدد حکام سے ملاقاتیں کیں،پاکستان اور میکسیکو کے مابین باہمی سیاسی مشاورت کا چھٹا دور اسلام آباد میں منعقد ہوا،انہوں نے کہا کہ اس ہفتے امریکی وفود کے دوروں کی سیریز جاری ہے،یہ دورے پاک امریکہ تعلقات کی کثیر جہتوں کے حوالے سے ہیں،ان دوروں کا مرکز صرف افغانستان نہیں ہے،پاکستان غزہ میں اسرائیل کی جانب سے سویلین اہداف کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتا ہے،ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے مطابق غزہ میں شہریوں کو شدید خطرات لاحق ہیں ،غزہ میں کوئی بھی جگہ عوام کے لیے محفوظ نہیں ہے،ہم اسرائیل کے پشتی بانوں کو کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو تشدد روکنے اور قیام امن پر راضی کریں،ہم القدس الشریف بطوت دارلحکومت 1967 سے پیشگی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں،فلسطین کا حل دو ریاستی حل پرمشتمل ہے،پاکستان نے کبھی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضہ کو تسلیم نہیں کیا ،بھارت کے 5 اگست 2019 کے یک طرفہ و غیر قانونی اقدامات کشمیر کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے

،یہ اقدامات انسانی قوانین اور جینوا کنوینشنز کی سرعام خلاف ورزی ہیں،پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن کشمیریوں کی خواہشات کے. مطابق حل تک اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا،ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے،امریکہ سے رواں ہفتے تین وفود نے پاکستان آنا تھا،یہ ملاقاتیں پاک امریکہ تعلیمی تعلقات کی سیریز کا حصہ ہیں،ان ملاقاتوں میں پک امریکہ تعلقات کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال ہو گا،ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیان کشمیریوں, پاکستان اور اقوام متحدہ کے غیر جانبدارانہ استصواب راے کے حل کو نہیں بدل سکتے،ہم بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ایک غیر جانبدارانہ استصواب راے منعقد کرانے کا مشورہ دیتے ہیں، تاکہ کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق مل سکے،اقوام متحدہ آرٹیکل 99 امن و سلامتی کے حوالے سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے اختیارات کا ضامن ہے،ہمیں امریکہ کی جانب سے ایک تجدید شدہ اپ ڈیٹڈ فہرست موصول ہوئی ہے،ہم اس فہرست میں شامل افراد کی جلد وطن واپسی اور ویزا عمل تیز کرنے کی کوشیش کریں گے،امریکی سفارت خانے کی جانب سے امریکی حکام کے دورے پر جاری بیان پر تبصرہ نہیں کر سکتے،پاک امریکہ اجلاسوں میں ہم امریکی حکام کے توجہ طلب معاملات اٹھائیں گے،اسی طرح انہوں نے جن معاملات پر انہیں تحفظات ہیں ان کو اجاگر کیا،ترجمان نے کہا کہ گزشتہ روز طورخم سرحد کا گیٹ کھول دیا گیا

،دونوں ممالک کی انتظامیہ دوستانہ انداز میں حل طلب معاملات کے حل کے لیے رابطہ میں ہیں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے عافیہ صدیقی پر بیانات سنجیدہ بیانات ہیں،پاکستان ان بیانات کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے،نگران وزیر اعظم نے بھی اس معاملے کو امریکہ کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی ہے،ہم اس معاملے کو امریکہ کے ساتھ اٹھائیں گے،ماضی میں بھی امریکی انتظامیہ کو کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کسی جسمانی یا نفسیاتی تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے،ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ابھی تک شہزاد اکبر نے پاکستانی ہائی کمشن سے کسی قسم کی مداد طلب نہیں کی،یہ ہماری پالیسی نہیں کہ ہم بیرون ممالک مقیم اپنے شہریوں کو نشانہ بنائیں،ہمیں برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھرپور اعتماد ہے،ہم اس حوالے سے برطانوی اداروں کی جانب سے کسی قسم کے معلومات کے تبادلہ کا خیر مقدم کریں گے،پاکستان کو کالعدم دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سلامتی کو درپیچ خطرات پر تحفظات ہیں،ہم ان دہشت گرد گروہوں کی جانب سے درپیش خطرات میں امتیاز نہیں کرتے،وزارت خارجہ عدلیہ میں موجود کیسز پر عوامی سطح پر بات نہیں کرتی،

ہم اپنی قانونی ٹیم کی راہنمائی میں ان کیسز کو متعلقہ فورم پر زیر بحث لاتے ہیں،حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ سرحد پار عوامی نقل و حرکت جائز ویزا کے ذریعے ہوگی ،دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں ہیں،پاکستان امریکی رپورٹ میں بیانات کو سختی سے مسترد کرتا ہے،دہشت گردوں کی مالی ایانت کے انسداد کے لیے پاکستانی اقدامات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ،امریکی رہورٹ میں گذشتہ برسوں کے بیانات کو من و عن طبع کیا گیا ،یہ رپورٹ حقائق کے منافی ہے،قیدیوں کے تبادلے کے کیسز وزارت داخلہ کی جانب سے تیار اور پیش کیے جاتے ہیں،امریکی نمائندہ خصوصی ٹام ویسٹ کے دورے مین زیادہ افغانستان سے متعلق امور پر غور ہوگا ،تاہم امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ کے دورے میں دیگر شعبوں پر بھی تبادلہ خیال ہو گا،انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر اکثر سرحدی انتظامیہ کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں،تاہم باہمی رابطوں کے چینلز کے زریعہ ان غلط فہمیوں کو دور کر لیا جاتا ہے،افغان حکام کی جانب سے پاکستان کے کسی حصہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں،ان کی بیانات حقائق پر مبنی نہیں ہیں،افغان عبوری حکام پاکستان مخالف بیانات کی بجائے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کریں،افغان عبوری حکام افغانستان میں قیام امن پر توجہ دیں ،افغانستان کی افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کاروائی اہم ہے۔

Comments are closed.