الیکشن جیت کر ملک کی پھر سے خدمت کریں گے، رانا ثناء اللہ

جڑانوالہ (آن لائن )پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 2018ء میں بہت سی قوتوں نے ن لیگ کا راستہ روکنے کی کوشش کی، آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے عام آدمی کا گزاامشکل ہو رہا ہے ، عام آدمی کا قلیل تنخواہ میں گزارہ مشکل ترین ہو گیا ہے، الیکشن جیت کر عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کے اقدامات کریں گے، الیکشن جیت کر ملک کی پھر سے خدمت کریں گے ۔ اتوار کو مسیحی برادری سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 2012ء میں بڑے سرمایہ کار پاکستان آنے کے لیے تیار نہیں تھے، پاکستان میں 2012ء میں لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ہو رہی تھی، عوام نے 2013ء میں ہم پر اعتماد کیا تو ہم نے اس ملک سے دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ ختم کی، نواز شریف کی قیادت میں ہم نے لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی سے نجات دلائی، اسی لیے ہمارے دور میں پوری دنیا نے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنے مسائل پر قابو پا لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے ملک کے عوم کو خوشحالی دی، 2017 میں ڈالر سستا تھا اور ملک ترقی کر رہا تھا، سی پیک کے ذریعے 40 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ نواز شریف لایا، تب دوسرے لوگ دھرنے دے رہے تھے، جن کی وجہ سے 2018ء میں بہت سی قوتوں نے ن لیگ کا راستہ روکنے کی کوشش کی، 2018ء میں بھی مسیحی برادری نے بھرپور ساتھ دیا تھا، اس بار بھی ان کے ساتھ کی بدولت مسلم لیگ ن دونوں صوبائی اور قومی حلقے جیتے گی۔رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 2018 میں جس شخص کو لایا گیا اس نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا

، پچھلی حکومت نے پونے چار سال سیاسی مقدمے اور گالیاں سکھانے پر ضائع کئے، گزشتہ حکومت ملک میں سماجی، اخلاقی اور سیاسی بحران لائی، اس آدمی نے ملک میں ’نہیں چھوڑوں گا’ کی پالیسی چلائی، امریکہ کے دورے پر وہاں جا کے کہہ رہا تھا نواز شریف کی جیل سے اے سی اتار دوں گا، میاں شہباز شریف نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر مل بیٹھنے کی بات کی، اس شخص نے جواب دیا تھا کہ تم لوگوں کو جیلوں میں ڈالوں گا، اس کے اس روئیے کی وجہ سے ملک بد حال ہو گیا اور اس کے گناہوں کی وجہ سے وہ جیل میں ہے لیکن اسے وہاں ہر سہولت دی گئی ہے، جم، دیسی مرغی اور دیگر سہولیات پر ہم نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی بلاشبہ ایک سیاسی جماعت تھی لیکن ان کے لیڈر نے ریڈ لائن کراس کروائی، احتجاج کا یہ مطلب نہیں کہ ملکی دفاعی اداروں پہ چڑھ دوڑو، اداروں پہ حملوں کو سیاسی احتجاج نہیں کہا جا سکتا ، احتجاج کے نام پہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو معافی نہیں ملے گی، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے والوں کو معافی نہیں ملے گی، اب الیکشن کی آمد آمد ہے اور ہر کوئی کہہ رہا ہے الیکشن ن لیگ جیتے گی۔

Comments are closed.