وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا جائے گا،نواز شریف
لاہور( آن لائن )سابق وزیراعظم و سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا جائے گا، کسی کو پوچھنا چاہیے تھا کہ صبح کا وزیراعظم شام کو ہائی جیکر کیسے بن گیا ، سارا کھیل سلیکٹڈ کو لانے کیلئے کھیلا گیا۔۔لاہور میں پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ خوشی ہے سندھ سے تعلق رکھنے والے امیدوار تشریف لائے، کافی عرصے بعد بہت سارے ساتھیوں سے ملاقات ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا جائے گا، 1999کی صبح میں وزیراعظم تھا، شام میں ہائی جیکر بن گیا، ہم پاکستان میں وہ کام کر سکتے ہیں جو دوسری قومیں نہیں کر سکتیں
، ہمیں نظر کھا گئی ،سیلکٹڈ شخص کو لانے کیلئے مجھے نکالناپڑا،آرٹی ایس بٹھا کر ایک منتخب حکومت کو فارغ کردیا گیا ، آئین، قانون میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود وزیرِ اعظم کو نکالنا تھا،آر ٹی ایس بٹھا کر جو حکومت لائی گئی وہ ایک موٹر وے بھی نہ بناسکی، اگر ہماری حکومت نہیں توڑی جاتی تو وہ موٹر وے بن جاتی، کس نے کراچی سے دہشت گردی کو ختم کیا، سندھ میں ہم نے کوئلہ نکالا، بجلی اس سے بن رہی ہے، کراچی میں ہم نے 2200 میگا واٹ پاور پلانٹ قائم کیا۔نواز شریف نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا، پشاور سے سکھر تک ہم نے موٹرویز بنائیں، غیر ملکی قرضے واپس کردیے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو موٹر ویز اور سی پیک جیسے منصوبے دیے، ملک ترقی کی دوڑ میں آگے بھاگ رہا تھا، ہم نے ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، ڈیمز بنائے۔ان کا کہنا تھا کہ لواری ٹنل ہم نے بنایا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا، کراچی کو امن ہم نے دیا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا، کام ہم کریں ووٹ کسی اور کو پڑ جائے، کراچی اور چترال والے سوچیں ایسا کیوں کہ ووٹ کسی اور کو دیا۔ ہم کام کرنے والے لوگ ہیں، ہم غریبوں کا دکھ درد بانٹنے ہیں، ہم نہیں چاہتے ملک میں آٹا اور دال مہنگی ہو، ہمارے دور میں روٹی 4 روپے کی تھی، آج 20 روپے کی ہے، کچھ غریب ترس لوگوں نے روٹی پلانٹ لگائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا کہنا تھا کہ، ہم نے ہمیشہ آئین کی پاسداری اور رکھوالی کی ہے، جو آئین کی پاسداری اور رکھوالی نہیں کرتے ان کی سزا ہمیں بھگتنا پڑتی ہے۔
قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہم نے کبھی آئین اور قانون کو نہیں توڑا، ہم نے ہمیشہ آئین کی پاسداری اور رکھوالی کی ہے، جو آئین کی پاسداری اور رکھوالی نہیں کرتے ان کی سزا ہمیں بھگتنا پڑتی ہے۔قائد مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ اتنی دیر میں وزیراعظم نہیں رہا جتنی دیر ملک بدری کاٹی، ہم پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے، رانا ثناء اللہ پر ہیروئن سمگلنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، ہم پر بنائے گئے تمام جھوٹے مقدمات کو ججز نے اٹھا کر باہر پھینکا، نہ ہم نے کبھی بھینس چرائی اور نہ اس کے بارے میں سوچا ،خدا کا خوف کریں آپ ملک کو کس طرف لے کر جارہے ہیں ۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لواری ٹنل ہم نے بنایا، کراچی کو امن ہم نے دیا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا، کام ہم کریں ووٹ کسی اور کو پڑ جائے، میرے دور میں سب اچھا چل رہا تھا ، میعشت مستحکم تھی ، مہنگائی نہیں ،ہم نے قرضہ لیا نہیں واپس کیا تھا ترقی کا سفر جاری رہتا تو ملک کا آج معاشی عالمی طاقتوں میں شمار ہوتا ،بجلی لوڈ شیڈنگ ختم ہو رہی تھی، سی پیک پاکستان آرہا تھا، کہا جا رہا تھا پاکستان جی 20 میں شامل ہو جائے گا۔ نواز شریف نے کہا کہ چترال والوں سے پوچھوں گا ٹنل مجھ سے بنواتے ہیں ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں، کراچی سے حیدرآباد جو بنائی گئی وہ موٹر وے نہیں، ہم غریبوں کا دکھ بانٹنے والے لوگ ہیں
Comments are closed.