اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کل جمعہ کو طلب کرلی
اسلام آبا د(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ مظاہرین کو غیر قانونی حراست میں لینے کے خلاف کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے،بلوچ مظاہرین کی جانب سے وکیل ایمان مزاری عدالت میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ آپ نے 395 کا جو دفعہ لگایا ہے وہ کس چیز کے لیے ہے؟ جس پر آئی جی خاموش رہے
،عدالت نے ایمان مزاری سے پوچھا کہ آپ نے درخواست میں کتنے لوگوں کو مینشن کیا ہیں؟ جس پر ایمان مزاری نے کہا کہ ہماری درخواست میں کل 86 افراد کے نام شامل ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہجو لوگ مظاہرہ کرنے آئے ہیں، انکو کم از کم مظاہرہ تو کرنے دیں،جس پر آئی جی نے کہا کہ 23 دنوں سے یہ مظاہرہ تو کررہے تھے مگر کل حالات خراب ہوئے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کیا ہوا کہ 23 دنوں سے پرامن تھے اور کل ایسا ہوا؟آئی جی نے کہا کہ ہمارے پاس صرف ایک خاتوں ہے، جبکہ کل 19 خواتین لاپتہ ہیں،ہمارے پاس ایک خاتون ہے مگر 20 خواتین کو ہم کل سے ریلیز کر چکے،اس دوران عطاء اللہ کنڈی نے کہ کہ ان سے کہیں کہ سب کو رہا کریں مگر دوبارہ گرفتار نہ کریں،آئی جی نے کہا کہ اس وقت تھانہ کوہسار اور تھانہ کوہسار میں گرفتار لوگ ہیں،عدالت نے بلوچ طلباء کے وکلاء کو دونوں تھانوں میں گرفتار مظاہرین سے ملنے ہدایت کردی،آئی نے کہا کہ ہم نے جو بھی ایکشن کیا تھا وہ دفاع کی صورت میں کیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ جو لوگ گرفتار ہیں انکو کہیں پیش کیا بھی یا نہیں ؟ اس پر سٹیٹ کونسل نے کہا کہ جن لوگوں کو آج مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا، کچھ جوڈیشل ہوا اور کچھ فزیکل ہوئے
، تھانہ ترنول کے حدود سے گرفتار تمام گرفتار افراد کو ڈسچارج کردیا گیا،عدالت نے واقع سے متعلق بلوچ مظاہرین کی وکلاء کو ایس پی انویسٹیگیشن سے رجوع کی ہدایت کر دی جبکہ آئی جی اسلام آباد کو بلوچ مظاہرین کے وکلاء کو معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سماعت کی ایک دن کے لئے ملتوی کررہے ہیں اور کل ساری تفصیلات سے آگاہ کیا جائے کہ کس کو جویشل کیا ہے اور کس کو فزیکل کر دیا ہے ،چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ آئی جی صاحب دیکھئیے گا آپ کا کوئی آفیسر کوئی رکاوٹ نا ڈالے ،جس پر آئی جی نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کے بچے ہیں ہم خیال رکھیں گے ، عدالت نے آج جمعہ تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی
Comments are closed.