سال نو کے آغاز پر غزہ پر فضائی حملے،خواتین اور بچوں سمیت 100 افراد شہید ، فلسطین میں قیام امن کیلئے دنیا بھرمیں احتجاجی مظاہرے
غزہ ( آن لائن ) نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے وسطی اسرائیل میں سائرن بجانے کا اعلان کیا، نئے سال کے پہلے روز بھی غزہ میں بمباری کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت مزید 100 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ القسام بریگیڈز نے بھی جوابی کارروائی کی اور تل ابیب پربیس راکٹ برسا دیئے ،سال نو کے موقع پر فلسطین میں قیام امن کیلئے دنیا بھرمیں احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ہیں ۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی کی رپورٹس کے مطابق غزہ کے علاقے زیتون میں اسرائیلی طیارے رات بھر عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہے، مغازی کیمپ میں رہائشی عمارتوں کو ڈرون سے نشانہ بنایاگیا، نصیرت کیمپ میں بھی گھروں پر بمباری میں 35 افراد شہید ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ شہر پر اسرائیلی فوج کی شدید بمباری سے اتوار و پیر کی درمیانی رات تقریباً 48 افراد شہید ہوئے ، جس کے بعد ایک اور حملے میں غزہ شہر کے مغرب میں الاقصیٰ یونیورسٹی میں پناہ گزین کیمپ میں 20 فلسطینی شہید ہوئے۔ادھر القسام بریگیڈز نے تل ابیب اور اس کے مضافات کی جانب متعدد راکٹ داغنے کا اعلان کیا ہے ، القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے M90 راکٹ فائر کئے۔علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے مسجد اقصیٰ کے سابق امام شیخ یوسف بھی شہید ہوگئے۔اسرائیلی فوج اور حماس کے ارکان کے درمیان زمینی لڑائی جاری ہے، جبکہ محصور غزہ کی پٹی کے مکینوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔دوسری جانب عرب میڈیا کاکہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ فوج کی سات بریگیڈوں میں سے ایک چھاتہ بردار بریگیڈ نے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں جاری زمینی کارروائیوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے ، فوج کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چھاتہ بردار دستوں نے شمالی غزہ کی پٹی میں دو ماہ کی بڑی لڑائیوں کے بعد خان یونس کے علاقے میں اس ہفتے اپنا مشن شروع کیا۔عرب میڈیا کے مطابق فوج کاکہنا ہے کہ اس بریگیڈ کے فوجیوں نے حماس اور باقی مسلح فلسطینی دھڑوں کے انفراسٹرکچر پر حملہ شروع کیا، جن میں مانیٹرنگ مقامات اور ہتھیاروں کے ڈپو شامل ہیں۔دریں اثنا سعودی عرب کی طرف سے غزہ کے عوام کے لیے سعودی ہمدردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے ، شاہ سلمان ریلیف سینٹر نے مزید امدادی سامان کے ساتھ مزید 16 ٹرک 23 لاکھ سے زیادہ کی آبادی والے جنگ زدہ غزہ میں بھیج دیے ہیں۔دریں اثناء سال نو کے موقع پر دنیابھر میں جہاں جشن منایا گیا وہیں فلسطین میں قیام امن کے لیے دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، مظاہرین نے نئے سال کے موقع پر عالمی مہم شروع کی جس میں لوگوں سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی غزہ میں وحشیانہ بمباری کو روکنے اور غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے لیے نئے سال کے موقع پر سوئٹزرلینڈ، ترکی، ملائیشیا، آسٹریلیا، تنزانیہ، میکسیکو اور جرمنی سمیت دنیا بھر کے 30 سے زائد ممالک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی Countdown2ceasefireکے ہیش ٹیگ سے مہم چلائی گئی۔لاہور میں لوگ فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں موٹر سائیکلوں ریلی نکالی۔بغداد کے تحریر اسکوائر میں غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کرسمس ٹری کو کفن سے سجایا گیا۔ترکیہ کے شہر استنبول میں مظاہرین امریکی قونصل خانے کے باہر جمع ہوئے ، احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم 2024 میں میں داخل ہو رہے ہیں، اس سال ہم غزہ میں مستقل جنگ بندی کی امید کرتے ہیں۔واضح رہے کہ 7اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 21ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 56ہزار سے زائد زخمی ہیں۔۔
Comments are closed.