عدلیہ گڑھے مردے کیوں اکھاڑ رہی ہے،میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کی بجائے عوام کو سستا انصاف فراہم کرنے پر توجہ کیوں نہیں

اسلام آباد :پچھلے کچھ عرصے سے دیکھا جا سکتا ہے کے عدلیہ نے ماضی بعید کے کچھ ایسے کیسز کو سامنے لانا شروع کر دیا ہے جنکا ملک کے آج عوام کے اصل مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں – اِن فیصلوں سے یہ ثابت ہو رہا ہے کے عدلیہ نے ہی ملکی سیاست کا بیڑا اٹھایا ہوّا ہے جبکہ عام عوام کے انصاف کے حصول میں کوئی بہتری نہیں اور نا ہی کوئی فرق پڑا ہے،اب جب کے ملک میں الیکشنز کا دور دورہ ہے اور تمام سیاسی پارٹیز اب الیکشنز کی تیاری میں مصروف ہو چکی ہیں- عدلیہ کی طرف سے آج جنرل پرویز مُشرف کے خلاف کیسز کو سنتے ہُوئے ایک بہت ہی پرانے مقدمے میں پہلے سے ہی سنائی جانے والی سزا کو دوبارہ ہنگامی بنیادوں پر سُن کر برقرار رکھنا حیران کن ہے کیونکہ ملک اور لوگوں کےاصلی مسائل سننے کی بجائے اِس طرح کے متنازعہ سیاسی نوعیت کے کیسز ہنگامی بنیادوں پر سننے کا مقصد ما سوائے اپنی مشہوری اور توجہ حاصل کرنے کے علاؤہ کچھ نہیں-یہ بات سب کو پتہ ہے کے یہ کوئی نیا کیس نہیں بلکہ بہت پرانا کیس ہے اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے اِس طرح کے گھڑے مودے اکھاڑ کر کیا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پرویز مشرف کا ٹرائل شروع سے ہی تضادات کا شکار ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ 3 نومبر سے زیادہ سنگین جرم 1999 کا مارشل لا تھا جبکہ 3 نومبر کو صرف آہین معطل کیا گیا تھا ۔ آہین کی شک 6 پیرا 2 کے تحت سنگین غداری کا مرتکب صرف آہین معطل کرنے والا ہی نہیں بلکہ جو بھی شخص اس میں معاونت کرے یا شریک ہو وہ بھی سنگین غداری کا مرتکب ہے۔اس سے یہ بات عیاں ہے کہ اس مقدمے کا مقصد مستقبل میں آہیں شکنی کا تدارک نہیں بلکہ مخصوص ایجنڈا ،ذاتی رنجش اور بغض تھا کیونکہ اگر یہ مقدمہ 1999 کی آہین شکنی پر چلتا تو اس میں وہ جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا اور لیگل فریم ورک آرڈر کی توثیق کی اور وہ تمام سیاستدان جنہوں نے جنرل مشرف کا ساتھ دیا جو موجودہ سیاسی نظام کا حصہ ہیں وہ بھی سنگین غداری کے مرتکب پائے جاتے۔ مذید براں پشاور ہائی کورٹ کے جس جج نے جنرل مشرف کو پھانسی کا آرڈر دیا اور اس میں تحریر کیا کہ جنرل مشرف کو ڈی چوک میں پھانسی دی جائے اور 3 دن تک لٹکایا جائے اسکی بھی ہماری عدالتی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔اس جج کے فیصلوں سے دہشت گردوں کی سہولت کاری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کے اب جب خدا خدا کر کے ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آ رہا ہے اور سب انڈیکیٹرز مثبت طرف جا رہے ہیں اور تمام سیاسی لیڈرز اور پارٹیز الیکشنز کے لئے اپنا ایجنڈا اور منشور عوام کے سامنے رکھ رہی ہیں ایسے وقت میں ماضی کے اِن متنازع اور سیاسی کشیدگی بڑھانے والے کیسز کو اِس طرح پبلک میں اُبھارنا سمجھ سے بالا تر ہے جس سے ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا راستہ دوبارہ کھل جاتا ہے،عدلیہ کی اپنی کارکردگی تو قوم کے سامنے ہے جہاں اب بھی ۵۶۰۰۰ سے زائد کیسز پینڈنگ پڑے ہُوئے ہیں اور عالمی انصاف کے مِیعار میں 140 میں سے پاکستان کا 130 نمبر ہے

کاش ایسا ہوتا کے بجائے ماضی کے اُن کیسز کو سننے کی بجائے جن سے کسی بھی پاکستانی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، عوام کے اصل مسائل سے جڑے کیسز کو اتنی ہی تنگ دہی سے سنا جاتا تاکہ عوام بھی یہ محسوس کرتی کے عدلیہ صرف اپنی مشہوری کے لئے کیسز سننے میں ہی مگن نہیں بلکہ پاکستانیوں کو اصل انصاف دلوانے میں بھی دلچسپی لیتی ہے

Comments are closed.