آئین و قانون کے تحت پارلیمان قانون سازادارہ ہے ، عطاء تارڑ

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ آئین و قانون کے تحت پارلیمان قانون سازادارہ ہے ،قانون سازی کا اختیار صر ف اورصرف پارلیمان کو ہے قانون پرعملدآرمد روکنا سپریم کورٹ کا اختیارنہیں ، ازخود نوٹس کا اختیار چیف جسٹس کو نہیں سپریم کورٹ کو ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاریخ کا پہلا قانون ہے جس کے وجود میں آنے سے پہلے ہی حکم امتناعی جاری کردیا گیا ،آئین کے مطابق پارلیمان قانون ساز ادارہ ہے جو بنچ اس وقت بن رہے ہیں ان کو غیر قانونی سمجھتا ہوں ، پارلیمان نے تمام اداروں کو اختیارات تفویض کیے ہیں، چیف جسٹس کو یہ کیس نہیں سننا چاہئے تھا بلکہ فل کو رٹ تشکیل دیاجانا چاہئے تھا،بنچ بنانے کا اختیار اجتماعی اور سپریم کورٹ کا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قانون پرعملدآرمد روکنا سپریم کورٹ کا اختیار نہیں کیا ہی اچھا ہوتا کہ مفادات کے ٹکراؤ کے تحت چیف جسٹس اپنے آپ کو اس بنچ سے الگ کر لیتے،اس معاملے کو فل کورٹ دے کر سننا چاہے تھا ۔ہمیں اس بنچ کی تشکیل پر تحفظات تھے،فل کورٹ کے بنچ کی تشکیل کیلئے بنچ کے سامنے دلائل دےئے گئے تھے، آئین و قانون کے تحت پارلیمان قانون سازادارہ ہے ،قانون سازی کا اختیار صر ف اورصرف پارلیمان کو ہے قانون پرعملدآرمد روکنا سپریم کورٹ کا اختیار نہیں ہے از خودنوٹس کا اختیار چیف جسٹس کو نہیں سپریم کورٹ کو ہے ۔عدلیہ کی خودمختاری کا ڈھانچہ آئین میں طے کر دیا گیا ہے ۔

Comments are closed.