نواز شریف کو اخلاقی وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار نہیں بننا چاہئے،خورشید شاہ
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کو اخلاقی وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار نہیں بننا چاہئے کیوں کہ لاہور سے اْن کے انتخاب پر کئی سوالیہ نشان ہیں اور یہ تاثر عام ہے کہ انہیں جتوایا گیا ہے۔ بطور سیاسی ورکر میری یہ رائے ہے کہ ہمیں کسی کے مینڈیٹ پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہئے اور پیپلز پارٹی کسی اور جماعت کے منتخب ممبر کو اپنے ساتھ شامل نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ا?ئی کے حمایت یافتہ ممبران اسمبلی کو نہیں توڑنا چاہئے اور اصل مینڈیٹ ان ممبروں کے پاس نہیں بلکہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کو بھی تعداد کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے۔ اور اپنے بیانئے ووٹ کو عزت دو کا پاس رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے عہدے کیلئے شہباز شریف یا ایاز صادق بھی متبادل امیدوار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات جمہوریت کی روح کے خلاف ہے کہ ہم وزیر اعظم کے عہدے کی مدت کو آپس میں تقسیم کر لیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ جمہوریت اور ریاست کے استحکام کیلئے ضروری ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کو نہ چھیڑا جائے کیوں کہ کسی کے مینڈیٹ سے کھیلنا عوام کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فرض ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو پابند کرے کہ وہ فارم ۵۴ کے مطابق ۵۱ دن میں فیصلے کرے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ابھی تو الزام الیکشن کمیشن پر ہے لیکن اگر الیکشن ٹربیونلز میں گڑبڑ ہوئی تو پھر ذمہ دار جیوڈشری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ا?ئی کی اسپورٹ سے منتخب اراکین کو جلد یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ انہیں کس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے فیصلے مسلط نہیں کرے گی بلکہ ریاست کے مفاد میں کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین نے بہترین فیصلہ کیا ہے اور وہ انہیں اس فیصلے پر شاباش دیتے ہیں۔۔
Comments are closed.