جسٹس بابر ستار کیخلاف مہم، حساس ادارے سے انفارمیشن لاگ ان ہونے بارے رپورٹ طلب
اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم اور فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے حساس ادارے سے انفارمیشن لاگ ان ہونے بارے رپورٹ مانگ لی ہے‘ عدالت نے کہاہے کہ تحریری فیصلے میں آئندہ کی سماعت کی تاریخ دی جائیگی۔ جس دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جنہوں نے سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا ان کا پتا لگائیں۔جسٹس سردار اعجاز نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک ہی روز میں تین مختلف مہم چلائی گئیں؟ اگر ملک دشمنوں کی جانب سے فائیو جی وار شروع کردی جائے، اگر ملک دشمن یہ الزام عائد کردیں کہ آرمی چیف، صدر مملکت توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان الزامات کے نتیجے میں جلاوٴ گھیراوٴ ہو، بلڈنگز کو جلا دیا جائے تو کیا آئی ایس آئی ان ملک دشمن عناصر کو ٹریس کر سکے گی یا نہیں؟انھوں نے یہ ریمارکس پیر کے روزدیے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحق خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی،، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ہدایت کی کہ جنہوں نے سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا ان کا پتا لگائیں، جو اصل لوگ ہیں ان کا تعین کریں، ہم آرڈر کردیں گے آپ اصل ذمہ داروں کا تعین کریں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مہم کا آغاز کرنے والے لوگوں کے خلاف تحقیقات کریں
، آپ نے ان کا تعین کرنا ہے جنہوں نے جج کی فیملی کا ڈیٹا سب سے پہلے شیئر کیا، ہم اس حوالے سے ایک مناسب آرڈر بھی جاری کر دیں گے۔جسٹس سردار اعجاز نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک ہی روز میں تین مختلف مہم چلائی گئیں؟ اگر ملک دشمنوں کی جانب سے فائیو جی وار شروع کردی جائے، اگر ملک دشمن یہ الزام عائد کردیں کہ آرمی چیف، صدر مملکت توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان الزامات کے نتیجے میں جلاوٴ گھیراوٴ ہو، بلڈنگز کو جلا دیا جائے تو کیا آئی ایس آئی ان ملک دشمن عناصر کو ٹریس کر سکے گی یا نہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ ایک ہاں اور نا کا سوال ہے، بتائیں آپ کی استعداد ہے کہ نہیں؟جسٹس اعجاز کا کہنا تھا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے پاس فائیو جی وار فیئر کے خلاف کوئی سافٹ ویئر موجود نہیں؟ آپ بتائیں کہ فائیو جی وار فیئر کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کے پاس کیا وسائل موجود ہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملات خفیہ ہے تو سربمہر لفافے میں جمع کرا دیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ سسٹم میں معزز جج کی یہ انفارمیشن کتنی بار چیک کی گئی؟ آپ نے بتانا ہے کہ یہ انفارمیشن کیسے لیک ہوئی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ ڈی جی امیگریشن کہتے ہیں کہ یہ انفارمیشن ہمارے پاس نہیں ہوتی۔امیگریشن حکام نے بتایا کہ ہماری تکنیکی ٹیم آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کردے گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ انفارمیشن کے لیے لاگ ان کیا گیا ہوگا وہ آپ نے بتانا ہے۔ساتھ ہی عدالت نے آئی ایس آئی سے دوبارہ رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس محسن اختر نے کہا کہ آپ نے اسٹینڈ لے لیا ہے کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب امریکا کی شہریت نہیں ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب شہریت نہیں ہے۔بعد ازاں کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کردی گئی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئندہ کی تاریخ تحریری حکمنامہ میں ہوگی۔واضح رہے کہ 23 مئی کو جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کیس کی کازلسٹ جسٹس محسن اختر کیانی کی رخصت کے باعث منسوخ کردی گئی تھی۔
Comments are closed.