وزیراعظم سے چین کی پارلیمان کے سربراہ ژاؤ لیجی کی ملاقات
بیجنگ ( آن لائن ) وزیراعظم اپنے دورہ چین کے دوران بیجنگ میں موجود ہیں جہاں ان کی چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ( چین کی پارلیمان کے سربراہ )عزت مآب ژاؤلیجی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے چیئرمین ژاؤ کو چینی سیاست اور معاشرے کے لئے ان کی خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا اور نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس کے کامیاب انعقاد پر انہیں مبارکباد دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) اور نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) میں ایک اہم عہدہ جناب ژاوٴ لیجی پر چینی قیادت اور عوام کی طرف سے ان پر کئے گئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان منفرد اور خصوصی تعلقات اسٹریٹجک اعتماد، مشترکہ نظریات اور عملی تعاون پر مبنی ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین ژاؤ لیجی نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی رہنمائی کے تحت چین پاکستان کے ساتھ پائیدار شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ سطح کے تبادلوں میں مثبت رفتار کا زکر کیا اور دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کو مزید مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے اس رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے فیز II کے تحت پائیدار ترقی، خصوصی اقتصادی زونز (SEZ’s)، صنعتوں، IT، کانوں اور معدنیات، زراعت اور متبادل توانائی کے شعبوں میں تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔دونوں رہنماوٴں نے نیشنل پیپلز کانگریس اور پاکستان کی پارلیمنٹ کے درمیان روابط اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعظم نے پارلیمانی تبادلوں کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے جن میں چین پاکستان فرینڈشپ گروپس کے درمیان رابطوں کو بڑھانا اور نوجوان پارلیمنٹیرینز کے وفود کا تبادلہ شامل ہے۔ انہوں نے سی پیک کے تحت سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مشاورتی طریقہء کار کے اگلے دور کا انعقاد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔چیئرمین ژاؤ نے وزیر اعظم کو 2025-2026 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ دونوں رہنماوٴں نے اتفاق کیا کہ اس سے دونوں ممالک کو امن و آشتی پر مل کر کام کرنے اور اس حوالے سے قانون اور کثیرالجہتی کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔
Comments are closed.