مودی کی بھارت کو ہندوراشٹرامیں بدلنے کامنصوبہ

نئی دہلی (آن لائن)مودی کی بھارت کو ہندوراشٹرامیں بدلنے کامنصوبہ، چند حلقوں تک محدود سمجھا جانے والا ہندوتوا نظریہ بھارتی سیاست کا محور بن گیا ، بھارتی کی سیاست میں انتہا پسند ہندوؤں نے جامع حکمت عملی کے تحت بھارت کی سیکولر شناخت کو عملی طور پر ختم کر دیا ، بھارتی انتہاپسندوں کی یلغار نے ہر جائز اور نا جائز ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے مودی کے بھارتی حکومت پر قبضے کو سازگار بنایا۔حال ہی میں بی جے پی کی جانب سے بھارتی پارلیمان کو ہندو راشٹرامیں تبدیل کرنے کی منصوبہ سازی کی گئی

، بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ لودھ نے لوک سبھا میں بھارت سے ہندو راشٹر کے لیے 50 کٹر ہندو ذہنیت کے ایم پیز منتخب کرنے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ 50 کٹر ہندو ایم پیز کو منتخب کرنا ضروری ہے جو کہ پارلیمان میں بلا خوف و خطر ہندو راشٹرا کا مطالبہ کریں، ہمیں ایسے کٹر ہندوذہنیت کے ایم پیز کی ضرورت ہے بھارت کو ہندوتوا ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہوں، بی جے پی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ مذہب کی تبدیلی کا الزام لگانے والی اقلیتوں کیلئے سرکاری سکیموں کو فوری طور پر ختم کیا جائے،یہ ملک ہندووں کا دیس ہے اور ہمیشہ ہندووں کا ہی رہے گا، ہمیں سیکولراز م کا بھاشن نہ دیا جائے، بی جے پی نے مسلمانوں کو پر ہر طرح کی مذہبی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں حتیٰ کہ عیدالاضحی پر قربانی بھی نہیں کرنے دی گئی

، ہم نے اب ایسا بندوبست کردیا کہ کسی بھی مسلمان کو اب گائے ذبح کرنے سے قبل 100 بار سوچنا ہوگا، اب وقت آگیاکہ ہندو سوچ رکھنے والے نوجوانوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جائے تاکہ وہ ہندوراشٹراکے قیام میں اپنا حصہ ڈال سکیں، مودی سرکار کے تیسرے بار اقتدار میں آنے، کسی بھی مسلمان کے وزیر نہ بنائے جانے اور اب ہندوو?ں کی جانب سے ہندوراشٹراکے قیام کی دھمکیاں ، اس بات کی متقاضی ہیں کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں

Comments are closed.