ایران؛ اسرائیلی حملے میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ محافظ سمیت شہید

غزہ تہران(آن لائن) ایران میں اسرائیلی حملے میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ محافظ سمیت شہیدہوگئے ،بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب اور حماس نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے ۔اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مقامی وقت کے مطابق رات 2 بجے تہران کے قلب میں اْس مقام پر میزائل داغا گیا تھا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت ٹھہرے ہوئے تھے۔حماس نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاوٴنٹ پر ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے، انہیں ایران میں ان کی قیام گاہ پر نشانہ بنایا گیا، حملے میں ان کا محافظ بھی جاں بحق ہو گیا۔اسماعیل ہنیہ حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ تھے، ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل میں ملوث افراد کو سز دی جائے گی۔ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا ذمے دار اسرائیل ہے۔

اسماعیل ہنیہ کے قتل سے حالات مزید گشیدہ ہوں گے۔عالمی میڈیا کے مطابق حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی اطلاع کے بعد فلسطین کے مقبوضہ علاقوں غزہ اور مغربی کنارے میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نئے ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے تہران آئے تھے۔ ایران کی سرکاری ایجنسی کے مطابق حملہ آج صبح کیا گیا، جہاں اسماعیل ہانیہ کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا، اسماعیل ہانیہ کی عمر 61 برس تھی جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب حماس نے ایک بیان میں اسماعیل ہانیہ کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹے شہید ہوگئے تھے۔ حماس نے اسمٰعیل ہنیہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسمٰعیل ہنیہ کو یہودی ایجنٹوں نے نشانہ بنایا۔ ایرانی پاسدران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسماعیل ہنیہ اوران کے محافظ کو تہران میں ان کی رہائش گاہ پرنشانہ بنایا، علی الصبح پیش آنے والے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر بیان جاری کردیا۔ حماس نے تہران میں کیے جانے والے اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی تصدیق کی جبکہ حملے میں ان کا ایک محافظ بھی شہید ہوا ہے۔

اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنیہ کی شہادت پر فلسطینی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، شہادت پر عرب عوام، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے انصاف پسند عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔ حماس رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایک بزدلانہ فعل ہے جس کی سزا دی جائے گی، یہ ایک سنگین واقعہ ہے، ہنیہ کے قتل سے اسرائیل کو اس کے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔ حماس رہنما سامی ابو زہری نے کہا کہ ہم بیت المقدس کو آزاد کرانے کے لیے کھلی جنگ لڑ رہے ہیں، بیت المقدس کیلئے ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پاپولرفرنٹ فارلبریشن آف فلسطین کے ترجمان مہر الطاہر نے کہا کہ شہید اسماعیل ہنیہ نے فلسطین کاز کے لیے اپنا سب سے قیمتی مال دیا، فلسطینی اپنے مقصد کے لیے ہر عزیز اور قیمتی چیزپیش کرنیکو تیار ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ دشمن اسرائیل تمام سرخ لکیروں کو عبور کرگیا ہے، اسرائیل نے معاملات کو ایک جامع جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے، مزاحمتی تنظیمیں جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے،، اسرائیلی حکومت ہنیہ کے قتل اورایرانی خودمختاری پرحملے کے گناہ پرپچھتائے گی، شہید اسماعیل ہانیہ کا قتل امریکی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے تہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے۔ فلسطینی میڈیا کا کہنا ہیکہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی اطلاع کے بعد غزہ اور مغربی کنارے میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہیگیری نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم معاملات کو جنگ کے بغیر درست کرنا چاہتے ہیں تاہم کسی بھی صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

Comments are closed.