امریکا کا مستقبل میں چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لئے بڑی تعداد میں ڈرون خریدنے اور تیار کرنے کے منصوبہ کا اعلان
واشنگٹن ( آن لائن ) امریکا نے مستقبل میں چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لئے بڑی تعداد میں ڈرون خریدنے اور تیار کرنے کے منصوبہ کا اعلان کیا ہے۔ امریکا کی نائب وزیر دفاع کیتھلین ہکس کے مطابق منصوبے کے تحت ا?ئندہ دو سال کے دوران ہزاروں کی تعداد میں ڈرون خریدے جائیں گے کیونکہ یہ چھوٹے، بہتر کارکردگی کے حامل اور سستے ہیں۔
ریپلیکیٹر نام کے اس منصوبے کے تحت امریکا ہزارون کی تعداد میں ڈرون زمین، فضا اور سمندر میں تعنیات کرے گا۔کیتھلین ہکس کے مطابق چین زیادہ جنگی بحری جہازوں، میزائلوں اور فوجی افرادی قوت کی وجہ سے امریکا پر برتری حاصل کر چکا ہے اور اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکا کو مہنگی ٹیکنالوجی کی بجائے ڈرون جیسی سستی اور ا?سانی سے تیار ہونے والی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ دفاع نے اپنا نظام صنعتی دور کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا تھا لیکن سب کو علم ہے کہ ا?ج کا دور انفارمیشن اور مصنوعی زہانت کا دور ہے اور ہمیں اپنا نظام ا?ج کے دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دینا ہے۔ امریکی بحریہ کے ایڈمرل جان اکی لینو، جو یو ایس انڈو پیسیفک کمانڈ کی سربراہی کر رہے ہیں نے کہا کہ یہ ڈرون چین کے ساتھ مستقبل کے تنازع میں مددگار ثابت ہوں گے کیونکہ وہ ایک بڑی تعداد میں اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک کا خیال ہے کہ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی طرف سے ڈرونز کے استعمال کے موثر نتائج سامنے ا?ئے ہیں۔
Comments are closed.