اسلام آباد(آن لائن )خصوصی پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں اتفاق رائے آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کرلیا ، 11 صفحات پر مشتمل مسودہ کو حتمی شکل دیدی گئی ۔آئینی ترمیم کو 26 ویں ترمیمی ایکٹ 2024ء کا نام دیا گیا ہے ۔آئینی مسودے میں 9A کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ پارلیمان کی خصوصی کمیٹی نے ائین کے آرٹیکل 230 سی اور ڈی \229 \215 \209 \208 \259 \255 184۔\186 185 (اے )186 187\191(اے)9( اے)38 18\1 11\1 17\5(اے)177 179\ 193\ اور فورتھ شیڈول میں ترمیم منظوری دی ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججوں میں سے ایک کو چیف جسٹس مقرر کیا جائے گا، چیف جسٹس کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی 12 رکنی ہوگی۔ کمیٹی میں آٹھ ارکان قومی اسمبلی چار ارکان سینٹ شامل ہوں گے۔ پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی ہوگی، مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کے نئے مسودے میں 26 ترامیم شامل کی گئی ہیں۔نئے مسودے میں ایک بار پھر آئینی بینچ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے۔جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا۔ آئینی بینچز میں جہاں تک ممکن ہو تمام صوبوں سے مساوی ججز تعینات کیے جائیں گے،آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار ائینی بینچز کے پاس ہوگا۔ آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچز کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔ آئینی بینچ کم سے کم پانچ ججز پر مشتمل ہوگا۔ آئینی بینچز کے ججز کا تقرر تین سینیئر ترین ججز کی کمیٹی کرے گی۔ آئین کے آرٹیکل 38 اور آئین کے آرٹیکل 48 اور آئین کے آرٹیکل 81 میں ترمیم کی گئیں ہیں۔خصوصی کمیٹی سے منظور شدہ ا?ئینی ترامیم کا ڈرافٹ سامنے ا? گیا ۔کابینہ کی صدر یا وزیراعظم کو بھیجی گئی سفارشات کے متعلق کوئی عدالت نہیں پوچھ سکے گی ، مجوزہ ترمیم میں کہاگیا ہے کہ ا?رٹیکل 175 اے میں ترمیم کر کے جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی تعداد بڑھانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے ساتھ سپریم کورٹ کے 4 سینئیر ترین جج شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کا امزد وکیل جوڈیشل کمیشن کے رکن ہوں گے ، جوڈیشل کمیشن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے دو ، دو ارکان شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایک ایک رکن کا تعلق حکومت اور اپوزیشن سے ہو گا۔
Comments are closed.