نئی دہلی (آن لائن)مودی کی فسطائیت کا شکار منی پور ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں، منی پور میں حالات اب مودی سرکار کے ہاتھ سے نکل چکے ، علیحدگی پسند تنظیموں نے مرکزی حکومت کی جگہ لے کر منی پور کا تقریباً آدھے سے زائد علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ، ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد منی پور اب خانہ جنگی کی لپیٹ میں آچکا ، حال ہی میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے باعث منی پور میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔تصادم ایک عسکریت پسند گروپ کا دوسرے گروپ پر کم سن بچی کے ریپ کے الزام پر ہوا جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ،
حالات خراب ہونے کے باعث منی پور کے عوام بی جے پی حکومت پر شدید برہم عوام کا سوال ہے کہ کیوں مودی سرکار اب تک منی پور میں امن و امان کی صورتحال کو بحال نہیں کر سکی، گزشتہ ایک سال سے منی پور تشدد اور فساد کی آگ میں جل رہا ہے لیکن اس کا کوئی پرسان حال نہیں ، انصاف کی عدم دستیابی کے باعث منی پور میں علیحدگی پسند تنظیمیں قابض ہونے کے بعد اپنی حکومت بنانے کو تیار ہیں ، رواں سال ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی منی پور میں ہونے والے پر تشدد واقعات پر رپورٹ شائع کی تھی ، منی پور میں اب تک 230 افراد ہلاک، 12 ہزار سے زائد گھر جلائے جبکہ 60 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی مودی سرکار نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے منی پور پر مکمل چپ سادھ رکھی ہے۔
Comments are closed.