راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ سمیت تمام ملزمان کی حاضری مکمل نہ ہونے کی وجہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لئے 16 نومبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے عدالت نے رہ جانے والے بیشتر ملزمان میں مقدمہ کی نقول تقسیم کرنے کے بعد سماعت ملتوی کرنے کے ساتھ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی بریت کی درخواست پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو آئندہ تاریخ پر سنائے جانے کا امکان عدالتی حکم پر جیل انتظامیہ نے سابق چیئرمین سے ان کے بیٹوں کی ٹیلیفونک رابطے کی رپورٹ بھی پیش کردی ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر عمر ایوب، زرتاج گل، راجہ بشارت، شبلی فراز، صداقت عباسی، راجہ راشد حفیظ، واثق قیوم عباسی اور کرنل (ر) اجمل صابر سمیت وفاقی و صوبائی وزرا اراکین اسمبلی اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد ہونا تھی چونکہ مقدمہ کا مرکزی ملزم و تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے جیل میں ہونے کے باعث اس مقدمہ کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے تاہم گزشتہ روز جیل میں سماعت نہ ہوسکی عدالت نے ملزمان کی حاضری کے بعد ایسے ملزمان جن میں کسی بھی وجہ سے مقدمہ کی نقول تقسیم نہیں ہوسکی تھیں انہیں نقول فراہم کرنے کے بعد سماعت 16 نومبر تک ملتوی کردی دوران سماعت شیخ رشید احمد کی بریت کی درخواست پر دلائل میں ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شیخ رشید ایف آئی آر میں نامزد نہیں ہیں انہیں 6 ماہ بعد ملوث کیا گیا پولیس چالان میں 94 گواہان کے بیانات شامل ہیں لیکن کسی ایک گواہ نے بھی شیخ رشید کے ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی بھی ہائیکورٹ میں رپورٹ داخل کر چکے ہیں شیخ رشید کو بغیر ثبوت کے محض الیکشن پراسیس سے باہر رکھنے کے لئے ملوث کیا گیا حالانکہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا کوئی ٹھوس یا قانونی جواز موجود نہیں انہیں مقدمے سے بری کیا جائے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا یاد رہے کہ پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کئے گئے عبوری چالان میں حملے کا اصل محرک تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے علاوہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور، سابق وفاقی وزراء اور تحریک انصاف کی مرکزی، صوبائی اور مقامی قیادت کو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ٹی لیب سے سوشل میڈیا پر جاری آڈیو ویڈیو پیغامات، جی ایچ کیو کی جیک برانچ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ڈیوٹی پر تعینات فوجیوں کے بیانات کی روشنی میں ناقابل تردید شواہد کے ساتھ چالان مرتب کیا گیا ہے چالان کے مطابق تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے سوشل میڈیا پر بیانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوج کے خلاف اشتعال دلایا کہ کارکنان ہر ممکن غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور جتھوں کی صورت میں ایسی کاروائی کریں کہ اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی حکومت استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے اس طرح ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے کالعدم تحریک طالبان اور اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرح ریاستی و عسکری اداروں پر مکمل کوآرڈی نیشن کے تحت ٹارگٹڈ حملے کئے جس کے ناقابل تردید شواہد پیمرا، ایف آئی اے اور دیگر ذرائع سے حاصل کئے گئے چالان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے سوشل میڈیا پر بیانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوج کے خلاف اشتعال دلایا کہ کارکنان ہر ممکن غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور جتھوں کی صورت میں ایسی کاروائی کریں کہ اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی حکومت استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے جس سے 9 مئی کا سانحہ رونما ہوا۔
Comments are closed.