اقوام متحدہ کا افغانستان میں افیون کی کاشت بڑھنے پر اظہار تشویش کا اظہار

نیو یارک(آن لائن)اقوام متحدہ کا افغانستان میں افیون کی کاشت بڑھنے پر اظہار تشویش کا اظہار کیا ہے ، طالبان کے قبضے کے بعد جہاں افغانستان میں دہشتگردی کے مسائل پیدا ہوئے وہاں منشیات کا مسئلہ بھی ابھر کر سامنے آیا ، افغانستان دنیا میں بہت تیزی سے افیون کاشت کرنے والا ملک بن رہا ہے، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی تازہ ترین رپورٹ جاری کردی ۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے زیر قبضہ افغانستان عالمی سطح پر ہیروئن کی فراہمی کا اہم مرکز بن چکا ہے، افیون کی صنعت سے جڑے افراد ہتھیاروں، لوگوں اور منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہو رہے ہیں، افغانستان میں افیون کی کاشت میں اضافہ پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے

، طالبان کی جانب سے پابندی لگانے کے بعد سے سال 2024 میں 19% اضافہ ہوا، یو این او ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق رواں سال افیون کی کاشت کا رقبہ بڑھ کر 12,800 ہیکٹر ہو گیا، رواں سال جون تک افیون کی قیمت 730 ڈالر فی گلو گرام تھی جس سے طالبان مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں، ایران نے افغانستان میں میتھ کی پیداوار میں اضافے کے باعث ایران۔ افغان سرحد بند کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اسمگلنگ روکی جا سکے، طالبان کے قابضے کے بعد اب افیون کی کاشت شمال مشرقی علاقوں کی طرف بھی منتقل ہو چکی ہے، افیون کی کاشت بڑھ جانے سے خطے کیلئے سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں، طالبان کے غیر موثر اقدامات کے باعث افیون کی عالمی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

Comments are closed.