نئی دہلی (آن لائن)مودی حکومت کی فسطائی پالیسیوں کے نتیجے میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں شامل منی پور نسلی، لسانی اور مذہبی تعصبات کا محور بن چکا ہے، آئے روز ہونے والے قبائلی تصادم کی بدولت ریاست میں معمولات زندگی مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق منی پور میں تشدد اور خون ریزی کی نئی لہر سنگین شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
مودی سرکار نے اپنے تیسرے دور حکومت میں بھارت کو نسلی، لسانی اور مذہبی تعصبات کا محور بنادیا ہے۔منی پور میں تشدد اور خون ریزی کی نئی لہر کئی دوران میتی ملیشیا کیمسلح عسکریت پسندوں نے ککی قبیلے کے باشندوں پر حملہ کیا، جس میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔حملے کے دوران سترہ گھروں اور تین دکانوں کو بھی نظر آتش کیا گیا۔ ریاست میں مئی 2023 سے جاری نسلی فسادات کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک، 60 ہزار سے زائد بے گھر جبکہ بڑی تعداد میں گھر، کاروباری مراکز اور عبادت گاہیں نذر آتش کی جا چکی ہیں۔ یہ بات بلکل واضح ہے کہ مودی حکومت منی پور میں حالات پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
Comments are closed.