بھارتی ریاست ناگالینڈ معاشی، سماجی اور سیاسی بحران کا شکار

نئی دہلی (آن لائن)بھارتی ریاست ناگالینڈ معاشی، سماجی اور سیاسی بحران کا شکار، بھارت میں ہندوتوا نظریے نے ایسے خطرناک سیاسی ماحول کو جنم دیا ہے جہاں مذہبی و لسانی اقلیتیں اپنی بقا کی جنگ لڑ نے پر مجبور ہیں، کشمیر ہو یا ناگا لینڈ، آسام ہویا منی پور ہر جگہ علیحدگی پسندوں نے بھارت کی مرکزی حکومت کے خلاف محاز کھول رکھے ہیں، آسام اور منی پور کی طرح ناگا لینڈ میں بھی علیحدگی پسند تحریکیں موجود ہیں جو مقامی ثقافت اور شناخت کی حفاظت کے لیے لڑ رہی ہیں۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کی سرحدیں بنگلہ دیش، میانمار، بھوٹان، چین اور نیپال سے ملتی ہیں، ناگالینڈ میں 16 مختلف قبائل آباد ہیں اور 2030 تک اسکی آبادی 23 لاکھ سے زائد ہوجائے گی، عیسائیت ناگالینڈ میں اکثریتی مذہب ہے، جہاں تقریباً 87.93 فیصد لوگ عیسائی ہیں ، چونکہ عیسائیت یہاں کا اکثریتی مذہب ہے،لہذا انتہا پسند مودی نے اقلیت مخالف پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے ناگالینڈ کو ترجیحات میں شامل نہیں کیا، مودی کی ناقص پالیسیوں کی بدولت ناگالینڈ سیاسی عدم استحکام کاشکار ہوچکا ہے، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی) کے مطابق ناگالینڈ کا انسانی ترقی کا اشاریہ (HDI) اسکورمحض0.6 ہے، بھارت کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کی سالانہ ترقی کی شرح اوسط 7فیصد ہے جبکہ ناگالینڈ کی محض3.25 فیصد ہے جو اس کی اقتصادی تنزلی کا واضح ثبوت ہے، حکومتی سطح پر ترقیاتی فنڈز کی کمی اور عدم توجہ اس بات سے عیاں ہے کہ 2015 سے 2021 کے درمیان مودی حکومت نے ناگالینڈ کے لیے صرف200 ملین ڈالر مختص کیے، ناگالینڈ کی 72 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے اور زراعتی معیشت پر انحصا کرتی ہے مگر یہاں رابطہ سڑکیں اور انفراسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے، دیہی علاقوں میں صرف 22 فیصد سڑکیں پختہ ہیں جبکہ ایک دیہی ریاست ہونے کے ناطے ناگالینڈ کی معاشی ترقی کادار و مدار رابطہ سڑکوں پر منحصر ہے، ناگا لینڈ کا شعبہ صحت بھی شدید تنزلی کا شکار ہے جہاں ہسپتالوں میں ہر 1,000 افراد پر 0.7 فیصد بستر دستیاب ہیں، جب کہ قومی اوسط 1.1 ہے ، ناگالینڈ میں شرح خواندگی کم سطح پر ہے اورطالب علموں کی ڈراپ آو?ٹ کی شرح 40 فیصد ہے ، بنیادی صحت کی سہولیات کی ناقص صورتحال ناگالینڈ کے عوام کے ساتھ حکومتی استحصال اور ناانصافی کی ایک واضح دلیل ہے، بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق تقریباً 50,000 پیرا ملٹری دستوں کی تعیناتی کے باوجود، بھارتی حکومت مستقل امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے ، ناگالینڈ میں2021میں 63 شورش سے متعلقہ واقعات ہوئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی سرکار یہاں امن قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، ناگالینڈ میں مودی سرکار اور خصوصا بھارتی فوج اپنیہی شہریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، 2021 میں شورش نے ایک نئی چنگاری دیکھی جب ناگا لینڈ میں 14 معصوم شہریوں کو بھارتی فوج نے گھات لگا کر ہلاک کردیا، بھارتی فوج کی اس جارحیت کے نتیجے میں پورے ناگا لینڈ میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے، ناگا لینڈ میں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ جیسا ظالمانہ قانون رائج ہے جس کی وجہ سے بھارتی فوج زور آور ہے، آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ 1958 کا کالا قانون فوج کو تلاشی، گرفتاری اور اپنے ہی لوگوں پر گولی چلانے کے اختیارات دیتا ہے، مودی سرکار کے مظالم سے تنگ آکر ناگا قومی کونسل جیسی آزادی پسند تحریکیں ناگا لینڈ کی خودمختاری کیلئے اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں ، ناگا لینڈ کے عوام معاشی، سماجی، اور حکومتی سطح پر مسائل کے حل نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں، مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کی بدولت وہ دن دور نہیں کہ ناگا لینڈ کے لوگوں کی الگ ریاست کی مانگ حقیقت کا روپ دھار لے گی۔

Comments are closed.