شیخ حسینہ واجد کی بھارت نواز کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بتدریج بہتری

ڈھاکہ(آن لائن) شیخ حسینہ واجد کی بھارت نواز کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بتدریج بہتری آرہی ہے خاص طور پر دونوں ممالک کے دانشور اور اسکالرز بھارت کی ہندوتوا پالیسی کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد و یگانگت پر زور دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد دونوں ملکوں کے تعلقات میں انے والی خوشگوار تبدیلی کا نتیجہ قرار دی جا سکتی ہے۔شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس آڈیٹوریم اسلام آباد میں پاک بنگلہ دیش تعلقات پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی،گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن، پاک سوشل الائنس اور پاکستان سول سوسائٹی کے اشتراک سے کیا گیا۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور قومی ترانے کی مسحور کن دھنوں سے ہوا۔

کانفرنس میں بنگلہ دیش سے خواتین و حضرات بشمول ڈاکٹر پروفیسر شاہدزمان، سابق ڈین ڈھاکہ یونیورسٹی، اور بین الاقوامی اسکالرز نے آن لائن شرکت کی۔1971 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش سے اتنی بڑی تعداد میں کسی پاکستانی تقریب میں شرکت کی گئی۔ بنگلہ دیشی شرکاء نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بھارتی ہندوتوا کی لعنت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکاء نے مشترکہ امن وخوشحالی اور ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنے پر زور دیا۔ پاکستان کی طرف سے ممتاز ماہرین تعلیم،نوجوان رہنما،سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، اور کامیاب کاروباری افراد مرکزی مقررین تھے۔ تمام شرکاء نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔شرکاء نے جعلی خبروں سے بچنیاور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت وقت کو اجاگر کیا۔شرکاء نے مشرقی پاکستان میں 1971 کے ہنگامہ خیز سال کے دوران فوجیوں، بہاریوں اور محب وطن شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب میں قسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔کانفرنس کا اختتام بنگلہ دیش سے آئیمہمان مقررین اور تمام شرکاء کے شکریہ کے ساتھ ہوا۔ کانفرنس کے مقررین، یوتھ ٹیم لیڈرز اور کانفرنس کے منتظمین کو یادگاری شیلڈز اور اسناد بھی پیش کی گئیں۔

Comments are closed.