حماس غزہ کی پٹی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سے ملاقات کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے تحفظ بھی فراہم کرے گی، موسیٰ ابو مروزق
دوحہ(آن لائن)اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہ نما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ جماعت امریکہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے اور ہر چیز پر مفاہمت حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔ابو مرزوق نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ہم امریکہ کے ساتھ بات چیت اور ہر چیز پر مفاہمت حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں“۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس غزہ کی پٹی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سے ملاقات کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے تحفظ بھی فراہم کرے گی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اس طرح کے مکالمے سے واشنگٹن کو فلسطینیوں کے جذبات اور خواہشات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے
۔ اس سے امریکی موقف زیادہ متوازن ہو سکتا ہے جو صرف ایک فریق کے نہیں بلکہ تمام فریقوں کے مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیون وٹ کوف جنگ بندی کے معاہدے کو برقرار رکھنے میں مدد کے لیے غزہ کا دورہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ابو مرزوق نے امریکی صدر کی حلف برداری کو ایک "سنجیدہ صدر” قرار دیا کیونکہ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں ان کا کردار فیصلہ کن تھا۔ انہوں نے وٹ کوف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”صدر ٹرمپ اور جنگ کے خاتمے اور فیصلہ کن نمائندہ بھیجنے پر ان کے اصرار کے بغیر معاہدہ طے نہیں پا سکتا تھا“۔ غیر ملکی جریدے کا کہنا ہے کہ حماس کو "اگر وہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے درکار بین الاقوامی امداد کے بہاوٴ کو یقینی بنانا چاہتی ہے تو اسے کچھ رعایتیں دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔حماس نے پٹی میں سویلین حکومت کو ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن اس نے عسکری ونگ کو ختم کرنے سے انکار کردیا۔
Comments are closed.