آزاد خالصتان تحریک کا ایک اور لیڈر سکھ دول سنگھ کینیڈا میں قتل
نئی دہلی(آن لائن)بھارت کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی نے 20 ستمبر کو مطلوب گینگسٹرز کی تصویریں اور لسٹ جاری کیں جو مبینہ طور پر کینیڈا اور دیگر ممالک میں موجود ہیں۔
جس میں سکھ دول سنگھ کی تصویر بھی شامل تھی، مگر اگلے دن اکیس ستمبر کو ہی کینیڈا میں سکھدول سنگھ کو قتل کیئے جانے کے بعد این آئی اے کے آفیشل ایکس (ٹوئٹر) ہینڈل سے وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا گیا، لیکن یہ بات چھپ نہ سکی اور اب سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ این آئی اے نے بوکھلاہٹ میں اپنا ٹویٹ کیوں ڈیلیٹ کیا، کیا اس معاملے میں بھی دال میں کچھ کالاہے؟اور کیا بھارتی حکومت اس میں ملوث ہے ؟پوری دنیا میں اس حوالے سے بھارت پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
اس حوالے سے 21 ستمبر 2023 کو بھارتی میڈیا میں یہ خبریں زیر گردش رہی ہیں کہ بھارت میں مطلوب "دیویندر بمبیہا گینگ” کا سکھ دول سنگھ کینیڈا میں گینگز کے مابین آپس کی دشمنی میں مارا گیا۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ بھارت میں مطلوب خالصتانی دہشت گرد ارشدیپ سنگھ عرف عرش ڈالا کا ساتھی سکھ دول سنگھ کینیڈا کے شہر ونی پیگ میں مارا گیا۔
نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے ایک گروہی دشمنی میں اسے قتل کیا گیا۔ واقعہ کی تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے 43 بھارت مخالف گینگسٹر ز کی تفصیلات جاری کیں تاکہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد گینگسٹر نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکے جس میں سکھ دول سنگھ کو بھی نمایاں کیا گیا تھا۔ NIA کی طرف سے شیئر کی گئی فہرست کو مٹا دیا گیا ہے جس میں سکھ دول سنگھ کا نام درج تھا۔ بھارت نے گینگسٹر ” سکھ دول سنگھ” کے خلاف مہم شروع کر دی۔ مسئلہ کی سنگینی کو اجاگر کرنے کے لیے پینل پر کلیدی لفظ ” سکھ دول سنگھ” کا استعمال کیا گیا۔






Comments are closed.