شیخ رشید احمد، ان کے بھتیجے شیخ شاکر اور دو ملازمین کی بازیابی کے لئے دائر پٹیشن پر پر سماعت

راولپنڈی(آن لائن)لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، ان کے بھتیجے شیخ شاکر اور دو ملازمین کی بازیابی کے لئے دائر پٹیشن پر راولپنڈی پولیس کی جانب سے داخل کرائے گئے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مستردکردیا ہے اور آر پی او راولپنڈی کو 26ستمبر کو اصالتا طلب کر لیا ہے گزشتہ روز پٹیشن کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل سردار عبدالرازق خان اور ان کے معاون سردار شہباز خان ایڈووکیٹ پیش ہوئے اس موقع پر وفاق اور پنجاب کے لا افسران نے سی پی او راولپنڈی کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جس میں کہا گیا کہ شیخ رشید احمد راولپنڈی پولیس کی حراست میں نہیں ہیں نہ ہی انہیں تحویل میں لیا گیا تھا

شیخ رشید کو جس علاقے سے گرفتار کیا گیا وہ راولپنڈی نہیں بلکہ اسلام آباد پولیس کی حدود ہے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ پولیس کا سب سے آسان جواب کسی گرفتاری یا وقوعہ سے لاعلمی کا اظہار ہے اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جس علاقے سے درخواست گزار کو گرفتار کیا گیا وہاں کے سکیورٹی کیمرے ، سی ڈی آرز اور عینی شاہدین واقعہ کے گواہ ہیں دورخواست گزار کو سی پی او کی ہدائیت پر ایس ایس پی آپریشنز نے سول کپڑوں میں ملبوس افراد کے ہمراہ اغوا کیا اور5روز گزرنے کے بعد بھی مغویان کو نہ تو رہا کیا گیا نہ ہی کسی عدالت میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے آر پی او راولپنڈی کو اصالتا پیش ہونے کا حکم دیا اور سماعت 26ستمبر تک ملتوی کر دی شیخ رشید کے بھتیجے کی جانب سے دائررٹ میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں چار تھانوں کے ایس ایچ اوز اور سول کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے 17ستمبر کی شام نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھاپہ مار کر درخواست گزار کے چچا سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد،درخواست گزار کے بھائی شیخ شاکر، محمد عمران اور ڈرائیور سجاد کوان کے گھر سے حراست میں لیا

حالانکہ پولیس کے پاس نہ تو وارنٹ موجود تھے اور نہ ہی گرفتاری کی وجہ بتائی گئی جس کے بعد درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ نے معلومات کے حصول کے لئے پولیس سمیت دیگر متعلقہ حکام سے رابطہ کیا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ زیر حراست افراد کے خلاف نہ تو کوئی مقدمہ درج ہے اور نہ ہی وہ پہلے سے کسی مقدمہ میں مطلوب ہیں پولیس اور دیگر حکام گزشتہ کئی ماہ سے شیخ رشید کے تعاقب میں تھے اور کسی مقدمہ میں مطلوب نہ ہونے کے باوجود شیخ رشید کی گرفتاری نہ صرف ان کے بلکہ ان کے دوستوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جارہے تھے لیکن شیخ رشید کے انڈر گراؤنڈ ہونے کے باعث وہ ناکام رہے پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صرف ایک کاروباری ہونے کے ناطے درخواست گزار کے بھائی شیخ شاکر کا کسی سیاست سے کوئی تعلق ہی نہ ہے اور نہ ہی وہ سیاسی سرگرمیوں میں کبھی شامل ہوا لیکن اسے بھی شیخ رشید کے ساتھ غیر قانونی حراست میں لیا گیا اس طرح مذکورہ افراد کی حراست آئین کے آرٹیکل 4 سمیت دیگر دفعات کی صریحا خلاف ورزی ہے جبکہ ملک کی عدلیہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے وکلا نے استدعا کی کہ عدالت فریقین کوطلب کرے اور زیرحراست افراد کی بازیابی کا حکم دے یاد رہے کہ17ستمبرکی شام کو شیخ رشید کوا نکے بھتیجے اور2ملازمین کے ہمراہ حراست میں لیا تھا۔

Comments are closed.