اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر

دوہا ( آن لائن) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے۔ مذاکرات میں اسرائیلی وفد شریک تو تھا، مگر حتمی معاہدے کے لیے ضروری اختیارات کے بغیر شرکت کی جس کے باعث بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی۔ گیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی مذاکرات دوحہ میں شروع ہوئے تھے، جہاں ابتدائی طور پر دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کی توقعات تھیں۔

حماس نے پیش کیے گئے مجوزہ معاہدے پر مثبت ردعمل ظاہر کیا تھا، جس سے امید کی جا رہی تھی کہ مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہو گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل 60 دن کی جنگ بندی کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ تاہم، مذاکرات میں اسرائیلی وفد کی شرکت غیر فیصلہ کن ثابت ہوئی کیونکہ ان کے پاس معاہدے کے لیے ضروری اختیارات موجود نہیں تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کے مطالبات کو اسرائیل کے لیے ناقابل قبول قرار دیا تھا

، لیکن اس کے باوجود اسرائیل نے اپنے اعلیٰ سطحی نمائندوں کو دوحہ بھیجا تھا۔ مذاکرات میں ناکامی کے بعد فریقین کے درمیان جنگ بندی کے امکانات مزید مد ہم دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان دیرپا امن قائم ہو سکے گا۔

Comments are closed.