خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم سمیت 18 رہنماوٴں کے وارنٹ گرفتاری جاری

راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 26 نومبر کے پر تشدد احتجاج کے حوالے سے تھانہ واہ کینٹ کے مقدمہ میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم سمیت 18 رہنماوٴں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ مذکورہ تمام ملزمان کو گرفتار کر کے 8 اگست کو عدالت میں پیش کیا جائے عدالت نے تھانہ صادق آباد کے مقدمہ میں نامزد 68 ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کے خلاف دائر پراسیکیوشن کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 اگست کو تفصیلات طلب کر لی ہیں اسی روز مذکورہ ملزمان کے ضامنوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی

گزشتہ روز سماعت کے موقع پر پراسیکیوشن ٹیم نے عدالت میں موٴقف اختیار کیا کہ تمام ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہو چکے ہیں اور دانستہ طور پر عدالتی کاروائی سے گریز کر رہے ہیں عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر علیمہ خان، علی امین گنڈاپور، اعجاز خان جازی، چوہدری امیر افضل، شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، سردار منصور سلیم، زبیر خان نیازی، اجمل صابر اور عامر مغل سمیت 18 رہنماوٴں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے جبکہ عدالت نے تفتیشی افسر کو بھی کو ریکارڈ سمیت 8 اگست کو طلب کر لیا ہے دریں اثنا پراسیکیوٹر ظہیر عباس کی جانب سے تھانہ صادق آباد کے مقدمہ میں دائر درخواست میں موٴقف اختیار کیا گیا کہ تمام ملزمان جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہو رہے

اور ٹرائل میں دانستہ رکاوٹ ڈال رہے ہیں ملزمان عدالت کے بار بار سمن کے باوجود پیشی سے گریز کر رہے ہیں جس سے نہ صرف قانونی عمل متاثر ہو رہا ہے بلکہ عدالتی نظام میں خلل بھی پیدا ہو رہا ہے لہٰذا تمام ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کر کے قانونی کاروائی کی جائے جس پر عدالت نے 68 ملزمان کی ضمانت منسوخی کا حکم جاری کرتے ہوئے ضامنوں کو بھی نوٹس جاری کر دئیے ہیں اور مقدمہ کی سماعت 5 اگست تک ملتوی کردی ہے۔

Comments are closed.