کوپن ہیگن(آن لائن)ڈنمارک نے یورپی ساختہ فضائی اور میزائل دفاعی نظاموں کی خریداری پر تقریباً 58 بلین کرونر (9.1 بلین امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق یہ فیصلہ روس کی یوکرین پر جنگ کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔وزیرِ دفاع ٹرولز لْنڈ پاوٴلسن نے ایک بیان میں کہا موجودہ سیکیورٹی صورتحال کا تقاضا ہے کہ زمینی فضائی دفاعی نظام مسلح افواج کی ترقی میں اولین ترجیح ہو۔ یوکرین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ روسی فضائی حملوں کے خلاف شہریوں کے تحفظ کے لیے یہ نظام نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق طویل فاصلے کے لیے فرانسیسی-اطالوی SAMP/T نظام خریدا جائے گا، جب کہ درمیانے فاصلے کے لیے ناروے کا NASAMS، جرمنی کا IRIS-T یا فرانس کا VL MICA میں سے کسی ایک یا زائد کا انتخاب کیا جائے گا۔کل آٹھ دفاعی نظام خریدنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جن میں متعدد فائر یونٹس شامل ہوں گے۔ پہلا نظام 2025 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔سرمایہ کاری کا یہ منصوبہ ڈنمارک کی پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ جون میں ڈنمارک نے فوری طور پر درمیانے فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کی خریداری کا فیصلہ کیا تھا تاکہ فوری نتائج حاصل کیے جا سکیں۔وزارت کے حکام نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ امریکی نظام کو مسترد کرنے کے مترادف نہیں ہے۔
Comments are closed.