جنیوا ( آن لائن)اقوام متحدہ نے اپنی تازہ انسانی حقوق رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا میں ریاستی جبر مزید سخت ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نگرانی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جبری مشقت کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے اور سزائے موت کے واقعات بھی زیادہ عام ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے شمالی کوریا آج دنیا کا سب سے زیادہ جابرانہ ملک قرار دیا جا رہا ہے۔یہ رپورٹ 2014 کی اْس تاریخی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں پہلی مرتبہ شمالی کوریا پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا گیا تھا۔ نئی رپورٹ میں 2014 سے اب تک کے حالات کا احاطہ کیا گیا ہے، جو 300 سے زائد متاثرین اور بھاگنے والے شہریوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاستی نگرانی اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ ہمہ گیر ہو چکی ہے جبکہ سزائیں بھی سخت تر بنا دی گئی ہیں، جن میں غیر ملکی ٹی وی ڈرامے دیکھنے یا شیئر کرنے جیسے "جرائم” پر سزائے موت کا قانون بھی شامل ہے۔اقوام متحدہ کی 14 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے مطابق "2015 کے بعد متعارف کرائی گئی پالیسیوں اور قوانین کے تحت شمالی کوریا کے شہری زندگی کے ہر پہلو میں سخت نگرانی اور ریاستی کنٹرول کے تحت ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی اور آبادی ایسی سخت پابندیوں میں جکڑی ہوئی نہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگرچہ جیلوں میں محافظوں کی جانب سے تشدد میں کچھ کمی اور منصفانہ ٹرائل سے متعلق چند نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں، لیکن مجموعی طور پر انسانی آزادیوں میں کمی نمایاں ہے۔
شمالی کوریا کے جنیوا مشن اور لندن سفارتخانے نے فوری طور پر اس رپورٹ پر کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم پیونگ یانگ کی حکومت پہلے ہی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی اس قرارداد کو مسترد کر چکی ہے جس کی بنیاد پر یہ تازہ رپورٹ تیار کی گئی۔
Comments are closed.