اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے 10 کرکٹ اور 10 فٹ بال گراؤنڈز کی نیلامی پر جاری حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کو دوبارہ نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے راولپنڈی اسلام آباد سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ابو کر بن طلعت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار اپنے وکیل محمد علی ایڈوکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ سی ڈی اے کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
صدر رسجا نے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی اور ان کی لیگل ٹیم کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سی ڈی اے کے پاس گراؤنڈز کی نیلامی کا اختیار ہی نہیں۔ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت پلے گراؤنڈز کو کمرشل مقاصد کے لیے آؤٹ سورس نہیں کیا جا سکتا۔ گراؤنڈز میں کھیلنے کے لیے رقم کا تقاضا کیا گیا تو شہریوں کی رسائی محدود ہو جائے گی۔
کھیل کے میدانوں کی نیلامی سے کرکٹ اور فٹ بال گراؤنڈز عام شہریوں کے لیے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ اسلام آباد میں کرکٹ اور فٹ بال گراؤنڈز کی دیکھ بھال میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ذمہ داری ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کے گراؤنڈز کی نیلامی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
عدالت قرار دے کہ گراؤنڈز کی دیکھ بھال اور وہاں کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی ایم سی آئی کا اختیار ہے۔ واضح رہے کہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر سپورٹس اینڈ ٹورزم نے گراؤنڈز کی اوپن آکشن کے لیے چار جولائی کو اشتہار جاری کیا تھا۔ سی ڈی اے اشتہار کے مطابق گراؤنڈز کو پانچ سال کے لیے نیلام کیا جائے گا، نیلامی 50 لاکھ سے سٹارٹ ہو گی۔ عدالت نے گراؤنڈز کی نیلامی پر حکم امتناع برقرار رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی
Comments are closed.