افغان بھارتی پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ معاملات طے نہیں پاتے تو ہماری کھلی جنگ ہے، خواجہ آصف

سیالکوٹ ( آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے افغان بھارتی پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ معاملات طے نہیں پاتے تو ہماری کھلی جنگ ہے ۔ تین افغان نسلیں یہاں جوان ہوئیں اب انکو زیب نہیں دیتا کہ وہ دہشتگردی کو سپورٹ کریں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا مانچسٹر کے لئے پی آئی اے کی پہلی پرواز روانہ ہو گئی ہے ۔ اب یہ سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا ۔ قومی ائر لائن کو کافی نقصان ہو چکا ہے ۔ حکومت اب اس کو نفع بخش بنانے کے لئے پر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار پانچ روز سے سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔

ہر دوسرے دن دہشتگردی کے واقعے میں ہمارے جوان اور شہری شہید ہوتے ہیں ۔ شہدا کی وجہ سے ہماری سرحدیں محفوظ ہیں ۔ ہماری فورسز سرحد پر دہشتگردوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں ۔ بھارت کے خلاف ہماری فوج نے حال ہی میں دلیرانہ جنگ لڑی ۔ انہوں نے کہا بھارتی پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ افغانستان کے ساتھ ترکیہ میں بات چیت جاری ہے ۔ افغان معائدے میں معاملات طے نہیں پاتے تو ہماری افغا نستان کے ساتھ کھلی جنگ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چالیس سال ہم نے افغانیوں کی مہمان نوازی کی ۔ ابھی بھی چالیس لاکھ کے قریب افغان شہری یہاں موجود ہیں ۔ انکی تین نسلیں یہاں جوان ہوئیں ۔ یہ انھیں زیب نہیں دیتاکہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی کو سپورٹ کریں ۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں بہادر لوگ رہتے ہیں جو ملکی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کے طبی عملے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف فوج کے جوان عوام کی خاطر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دے رہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ “یہاں کے میڈیکل کالج کے پرنسپل نے پورے شہر میں اپنے نام سے لیبارٹریز کھولی ہوئی ہیں، جو نظام کی بدحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔”وزیرِ دفاع نے اس موقع پر عوامی خدمت کے جذبے اور قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قوم کو یکجہتی اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.